حقیقت پسندی : مفتی شکیل منصور القاسمی

مرزا بیدل فارسی کے بلند پایہ شاعر وادیب تھے۔فارسی شاعری کی تاریخ میں انکے علمی اور شاعرانہ کارناموں کو بنظر استحسان دیکھا گیا ہے۔اور فارسی شاعری میں انکی
علمیت اور مہارت کا لوہا مانا گیاہے۔وہ دراک ذہن،اور گہرے اور عمیق فکر وخیال کے مالک اور غایت درجہ کے ذکی الحس تھے۔بات کاٹنے اور بات بنانے کے فن میں بھی لاثانی تھے۔انکی شاعری میں طہارت عشق کے عناصر نمایاں ہیں۔وہ اپنے خداداد فن سے لہو ولعب،لذت اندوزی اور عشرت پرستی کے قائل نہیں تھے۔ان کے اشعار میں شرافت،نیکی،اور مصلحانہ وصوفیانہ ومبلغانہ ذہن ودل کی تصویر “جھلکتی” نہیں “چھلکتی” ہے۔۔۔مذہب وتصوف ، پند وموعظت ، انتہائ بلیغ عارفانہ کلام انکی شاعری میں پوری آب و تاب کے ساتھ جلوہ گر ہے۔۔یہی وجہ تھی کہ جب مرزا کا کلام ایران پہونچا تھا تو وہاں کے لوگ انکے صوفیانہ مضامین دیکھ کر “بیدل ” کو “بادل” یعنی اہل اللہ اور قطب سمجھ بیٹھے تھے۔۔۔۔پر افسوس یہ تھا کہ بیدل صاحب بڑے فیاضی کے ساتھ ڈاڑھی کی زکات نکالتے تھے۔اور خشخشی ڈاڑھی رکھتے تھے۔یوں عملا وہ کسی قطب کے وضع قطع کے معیار پہ پورا نہیں اتر تے تھے۔
دہلی میں ایک بار ایران کے سفیر سے بیدل صاحب کی ملاقات ہوئ تو سفیر ایران نے سراپا حیرت ہو کے پوچھا:آغا! ریش می تراشی؟؟
بیدل صاحب ذہانت طبع وحاضر جوابی کا اعلی مظاہرہ کرتے ہوئے فورا بولے: ریش می تراشم ولے دل کسے نمی تراشم۔۔۔
سفیر بھی ذہین تھا ۔اس نے جوابا کہا: بلے،دل رسول اللہ می تراشی۔
مرزا اب بھی بات کا بتنگڑ بنا سکتے تھے کہ اس میدان کے تو وہ چیمپئن تھے ہی! لیکن چونکہ مزاج میں حقیقت پسندی تھی ۔اسلئے فورا خاموش ہوگئے۔اور غلطی کے احساس سے سر نیچے کرلیا۔۔
تذکرہ نگار لکھتے ہیں کہ اس جملہ کے بعد جب وہ گھر گئے تو ذہن پہ اتنا اثر تھا کہ وہ تین دن تک گھر سے باہر نہیں نکلے! ۔۔
صحیح سوچ رکھنے والے اور اصلاح حال کے فکر مند حضرات مثبت اور تعمیری تنقید سن کے اسی طرح خاموش ہوجایا کرتے ہیں۔
ذاتی جذبات اور انا کی تسکین کی خاطر خواہ مخواہ قیل و قال اور بحث و مباحثہ میں وہی پڑتے ہیں جن کے اعصاب پہ “ہم ہیں سوا سیر” کا خبط سوار رہتا ہے۔اور جنہیں اصلاح حال سے زیادہ تسکین “انا” عزیز ہوتی ہے۔۔۔
رخ پہ رنگ ناگواری آگیا تنقید سے
خوگر حمد وستائش ہوگیا تہ نما
شکیل منصور القاسمی

Scroll to Top