آن لائن افتاء کورس ؟حقائق ومسائل

کووڈ ۱۹ کی تباہ کاریوں کی فہرست طویل ہے
اس بے رحم وباء نے تعلیم وتعلم کے روایتی طریقے کو بھی تہ وبالا کر چھوڑا تھا
تعلیمی اداروں نے تعلیمی انقطاع سے بچانے کے لئے آن لائن تعلیم کا سلسلہ بدرجہ مجبوری گوکہ شروع کردینے کو مفید جانا ۔
بعض دینی تعلیم گاہوں اور مدارس اسلامیہ و جامعات عربیہ کے یہاں یہ گنجائش بر بناے ضرورت نکالی گئی
تھی نہ کہ بر بناے “متبادل “!
اہل علم اس سے بخوبی واقف ہیں کہ ضرورت “ قدر ضرررت“ ہی مقدر مانی جاتی ہے ۔اب جبکہ حالات معتدل ہوگئے ۔ بے جان کورونا کی قہر سامانیاں تھم گئیں ، تو دینی اداروں نے پھر تعلیم وتعلم کے اسی طبعی و فطری مفید سلسلے (آف لائن کلاسز ) کو اپنے یہاں حسب حال بحال کردیا ۔
کورونا مجبوریوں کے تحت بر بنائے ضرورت ومجبوری شروع کردہ تخصصات شرعیہ آن لائن کلاسیز کو معتدل حالات میں بھی جاری وساری رکھنا بلا “ضرورت “ ہے اور اس اہم شعبے کی اہمیت ونافعیت اور اہداف ومقاصد کے ساتھ یک گونہ زیادتی اور ناانصافی ہے
شعبہ افتاء کوئی رسمی یا خانہ پُری کورس نہیں ہے
؛ بلکہ یہ شعبہ انتہائی سنجیدہ محنت ومزاولت اور عملی تمرین وتدریب اور راست افہام وتفہیم کا متقاضی ہے
دارس کو بھی علوم عربیہ میں ماہر وممتاز اور محنتی ہونا چاہئے اور مدرس کو بھی ماہر و تجربہ کار ہونا ضروری ہے
دیگر دنیاوی تعلیم گاہوں کے دیکھا دیکھی اتنے عظیم الشان شعبے کو بھی آن لائن رحم وکرم کی نذر کردینا اور سال یا چند ماہ کے صرف محاضرات یا آن لائن بعض اسباق کی خواندگی کے بعد ہمہ شما سب کو تکمیل افتاء کا سرٹیفکیٹ تھما دینا انتہائی غیر معقول بلکہ اس شعبے کے ساتھ حق تلفی ہے
“مفتی” اس کو کہتے ہیں جو قرآن و حدیث میں کامل دسترس رکھتا ہو۔دلائل ومصادر شرعیہ پہ جس کی گہری اور دقیق نظر ہو۔غور وتدبر کی صلاحیت سے بھی مالا مال ہو ۔علوم شرعیہ ماہر اساتذہ فن سے سبقاً سبقًا پڑھا ہو ۔پیش آمدہ مسائل وواقعات میں قرآن و حدیث کی روشنی میں لوگوں کی رہنمائی کرتا ہو۔
غرضیکہ یہ شعبہ انتہائی اہم ہے ، اس شعبے سے اور اس کے فارغ التحصیل متخصصین سے امت مسلمہ کی رہنمائی مقصود ہوتی ہے
یہاں ایسے مفتیان کرام پیدا کئے جائیں جو نہ صرف دینی شعور اور دین کی روح کو سمجھتے ہوں ؛ بلکہ دین سے کٹی ہوئی امت کو جوڑنے کی اہلیت بھی رکھتے ہوں ، جن کا علم گہرا اور نظر عمیق ہو ۔ اس شعبے کو اس کی اصل روح کے ساتھ باقی رکھا جائے ، تجارتی تعلیمی اداروں کی طرح اسے دنیاوی منافع سے پاک رکھا جائے
صرف “ لقب مفتی “ کے حصول یا تقسیم کے لئے اس کورس کو ہر گز نہ چلایا جائے
بلکہ “ماہرین دین وشریعت “ پیدا کرنا اس شعبے کا مقصد اولیں ہونا چاہئے
جب سماجی فاصلہ کا لزوم ختم ہوگیا تو اب اس شعبے کو آن لائن چلانے کی چنداں ضرورت بھی باقی نہ رہی ، اسے آف لائن کیا جائے اور ہر بڑے ادارے میں چلے آرہے اس شعبے میں داخلے کی طرف طلبہ کی رہنمائی کی جائے
یا پھر عند الضرورت آف لائن شعبہ قائم کیا جائے ، مطلوبہ صلاحیتوں کے حامل طلبہ کو داخلہ دیکر ماہر اساتذہ کی خدمات حاصل کی جائیں ، ان پہ خوب محنت کی جائے اور قابل واہل ٹیم تیار کی جائے ۔فقط
شکیل منصور القاسمی
مرکز البحوث الاسلامیہ العالمی
15/3/23

Scroll to Top