ملک ہندوستان کو انگریز سامراج سے آزاد ہوئے پون صدی کا عرصہ گزر چکا ہے ۔
بحمد اللہ ملک کا ایک حسین و جامع جمہوری آئین ودستور بھی ہے ، جو مذہب کی بنیاد پر کسی بھی قسم کے بھید بھائو یا امتیاز برتے جانے کی نفی کرتا ہے ۔ لیکن بدقسمتی کہیے کہ مادر وطن کے اسی سیکولر آئین کے تانے بانے کو ادھیڑ بن کرنے پہ آر ایس ایس کے چٹے بٹّے فاشزم ،تنگ نظر ،انتہا اور رجعیت پسند حکمراں تلے ہوئے ہیں ۔
شہریت بل 9 دسمبر 2019 کو پارلیمنٹ کے ایوان زیریں (لوک سبھا) سے منظور کروایا گیا اور 11 دسمبر کو ایوان بالا (راجیہ سبھا) نے بھی اس بل کی منظوری دیدی تھی۔
اس کے بعد اس وقت کے صدر جمہوریہ ہند رام ناتھ کووند نے بھی اس متنازع شہریت بل پر دستخط کردیئے، ان کے دستخط کے بعد یہ سیاہ اور ظالمانہ بل باقاعدہ قانون کا حصہ بن گیا ۔ یہ بل مسلمانوں کو چھوڑ کے باقی تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن اور پناہ گزینوں کو ہندستانی شہریت ملنے کا ضمانت دیتا ہے ۔ مذہب کی بنیاد پہ شہریت دینے کا تصور ہمارے ملک کے آئین کی روح کے خلاف اور سراسر غیر آئینی و بد نیتی پر مبنی اقدام ہے۔ اس ظالمانہ و شاطرانہ بل کی کانگریس، این سی پی، ایس پی، آر جے ڈی، بی ایس پی سمیت ملک کی تقریباً تمام اپوزیشن پارٹیوں نے ایوان میں مخالفت کی تھی ؛ لیکن طاقت کے نشہ میں بد مست حکمراں جماعت نے ایک نہ سنی ۔ بل پاس ہوجانے کے بعد شمال مشرقی علاقوں : آسام و میگھالیہ میں اس تعلق سے پرتشدد احتجاجی مظاہرے شروع ہوگئے، دیکھتے دیکھتے یہ مظاہرہ دار الحکومت دہلی، پٹنہ، اتر پردیش : دیوبند ، لکھنوء، علی گڑھ، کرناٹک، کیرلا، مہاراشٹر ؛ غرضیکہ ملک کے چپہ چپہ میں پہیل گیا ۔ شہریت کے متنازع قانون کے خلاف عوامی غم وغصہ ملک گیر شکل اختیار کرگیا ، مذہب اور دھرم کی تفریق کے بغیر ہر محب وطن ہندستانی سڑکوں پہ آگیا ۔ نئی دہلی ان احتجاجی مظاہروں کا مرکز بن گیا تھا ، مسلم اکثریتی علاقہ اوکھلا، اور جامعہ نگر میں جامعہ ملیہ اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے پر امن مظاہرین اور نہتھے طلبہ وطالبات پہ پولیس اور آر ایس ایس کے غنڈوں کا بہیمانہ تشدد شروع ہوگیا ۔ رہائشی عمارت پر براہ راست فائرنگ کی گئی اور بے رحمانہ پتھراؤ کیا گیا ، لائبریری اور مسجد کے توڑ پہوڑ کا گھنائونا اور شرمناک کھیل کھیلا گیا ۔ پولیس گردی میں ان گنت طلبہ اور معصوم شہری ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوگئے ۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے تک کو کہنا پڑا تھا کہ متنازع قانون بنیادی طور پر امتیازی ہے ، انہوں نے حکومت ہند سے اس کا جائزہ لینے کا مطالبہ کیا تھا ۔جبکہ امریکی محکمہ خارجہ نے بھی حکومت کو اپنی جمہوری اقدار اور آئین کی پاسداری کا لحاظ کرتے ہوئے اقلیتوں کے حقوق کا خیال رکھنے کی تاکید کی تھی ۔
عددی زعم برتری کے بل بوتے منظور کردہ آئین مخالف یہ متنازع شہریتی قانون در اصل ملک کی جمہوری بنادوں پہ خطرناک حملہ تھا۔ اس امتیازی وظالمانہ قانون کے خلاف ہندوستان کی سڑکوں پہ عوامی سمندر امنڈ آیا تھا ، آزاد ہندوستان میں حکمرانوں کے خلاف غم و غصہ کا یہ پہلا انوکھا تجربہ تھا ،سیاسی وفاداریوں ، بینروں اور قیادتوں کے بغیر ہی مرد وعورت ، بوڑھے وجوان ، شیر خوار بچے ، پڑھے لکھے واَن پڑھ ، مزدور ،محنت کش وکیل ،ڈاکٹراور پروفیسر ہر شعبہ حیات کے لوگ سڑکوں پہ نکل آئے تھے اور ملک کے جمہوری تانے بانے کی حفاظت کے لیے ملک کے چپہ چپہ اور کو نہ کو نہ میں مظاہرے اور ملین مارچ شروع ہوگئے تھے ۔
ملک ودستور کے تحفظ کے لئے کی جانے والی اس پاکیزہ جد وجہد میں سینکڑوں جانیں ضائع ، ہزاروں گرفتار اور زخمی ہوگئے تھے۔ظالم حکمرانوں کے خلاف قومی اتحاد ویکجہتی اور عوامی غیظ و غضب کو دیکھ کر زعفرانی حکومت کی ٹانگیں کانپنے لگی تھیں ۔علاقہ شاہین باغ اس سیاہ قانون کے خلاف ، عوامی غصہ ، احتجاج اور مزاحمت کا مرکز بن گیا تھا ، جس میں ہر عمر کی خواتین سخت سردیوں اور بارشوں کے باوجود شریک مظاہرہ تھیں ، شاہین باغ مظاہرہ ، ملک کیا ؟ پوری دنیا میں خواتین کے پر امن احتجاج کا نیا ماڈل بن کر ابھرا، عالمی پیمانے پر انصاف پسندوں کی طرف سے اس کی پذیرائی ہوئی اور جن قووتوں کے خلاف یہ احتجاج ہو رہا تھا ان قووتوں کے لئے یہ احتجاج ایک درد سر بن گیا تھا ، دستور اورملک کے جمہوری ڈھانچے کے تحفظ اور مادر وطن کی عظمت وتقدس کی حفاظتی جد وجہد کے لئے شاہینی عزم وحوصلہ کے ساتھ گھروں سے نکلنے والی باہمت ونڈر خواتین کے خلاف ریاستی جبر واستبداد کے پہاڑ توڑ دیئے گئے ، انہیں روح فرسا ابتلاء وآزمائش کے سلسلوں سے گزرنا پڑا ، قید وزنداں کی طویل صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں ، ان کے حوصلے پست کردینے ، انہیں بدنام کرنے کے لئے بے بنیاد ومن گھڑت مقدمات قائم کر انہیں پابند سلا سل کیا گیا ۔
مگر آفریں ہو ! بدترین فسطائیت ، لاقانونیت ، فاشزم اور ریاستی جبر واستبداد کے علی الرغم ، شعور ، دور اندیشی اور حکمت ودانائی اور جذبہ صادق کے ساتھ عدل ومساواۃ، دستوری آزادی، ملک کی جمہوری اقدار و روایات اور قومی یگانگت وہم آہنگی کے بقاء وتحفظ کے لئے جد وجہد کرنے ، وقت کے طاغوت کی فرعونیت کا مقابلہ کرنے ، اس راہ میں عزم وجواں مردی ، ثبات وشجاعت کی انوکھی تاریخ رقم کرتے ہوئے قربانیاں دینے ، خون و پسینہ اور دل وجان نذر کردینے والے عظیم وجاں باز بھائیوں اور شاہین صفت بہنوں اور بیٹیوں کے پائے استقامت میں ادنی تزلزل بھی پیدا نہ ہوسکا ۔
ایک سو ایک دنوں تک جرات وعزیمت کا یہ دشوار گزار سفر مسلسل جاری رہا اور تعب وتھکن سے آشنا ہوئے بغیر ، پورے جوش ، خروش ، ہوش وشعور کے ساتھ مسافران رہِ عزیمت جانب منزل رواں دواں رہے ۔
نتیجۃً ارباب حکومت کو فی الحال اس سیاہ قانون کو نافذ العمل کرنے سے پیچھے ہٹ جانا پڑا ۔
ضرورت تھی اس منفرد آئینی جدوجہد ، انقلابی کوششوں ، اور خواتین کے تاریخ ساز مظاہرے کی اس ملی تاریخ کو اچھوتے اور مستند علمی ترتیب سے سینہ سے سفینہ میں منتقل کرکے امر اور لازوال کردینے کی ، سو قدرت نے اس ضرورت کی تکمیل کے لئے ایک باتوفیق وباہمت فاضل نوجواں کو منتخب کیا جس نے زمانہ طالب علمی میں پوری جواں مردی ، جاں فشانی وجاں کاہی کے ساتھ اس ملی تاریخ کو دستاویزی حیثیت عطا کردی
میری مراد عزیز گرامی قدر مولانا عبد الرحمن صاحب قاسمی چمپارنی زید مجدہ سے ہے ۔
انہوں نے CAA&NRC (سی اے اے ، این ، آر، سی ) کے نفاذ کے مضمرات وپس پردہ مکروہ عزائم ، اس سیاہ قانون کے خلاف اٹھنے والی عوامی مزاحمتی کوششوں اور ان کے رول ماڈل تحریک شاہین باغ کا تاریخی پس منظر ، مزاحمتی انقلاب آفرین کوششوں میں تن من دھن سے شریک جیالوں اور شاہین صفت مائوں اور بیٹیوں پہ ڈھائے جانے والے ظلم وجور
وغیرہ کی روداد، اور ان کے اثرات و نتائج کا تفصیلی تذکرہ کیا ہے،تحقیق جدید کے معیارات کی رعایت کے ساتھ جس حسن ترتیب ، جامعیت ، تہذیب وتنقیح اور عمدہ سلیقے کے ساتھ منتشر مواد کو یکجا کر“ تحریک شاہین باغ “ کو سمجھنے کے لئے کافی وافی مواد اردو زبان میں مہیا کردیا ہے ۔ جس محنت شاقہ وعرق ریزی کے ساتھ جس عظیم کام کو انہوں نے سر انجام دیا ہے ، حق یہ ہے کہ یہ “ ایک آدمی “ کا نہیں ؛ “ اکاڈمی “ کا کام ہے ۔
پھر اسے “ کار” کہنا انصاف نہ ہوگا ؛ بیشک یہ عظیم “ کارنامہ “ ہے ۔
جس پر مؤلف محترم کو عمیق قلب سے ارمغان تہنیت وتبریک پیش کرنے کےکے ساتھ دونوں ہاتھوں سے سلیوٹ پیش کرتا ہوں ، اللہ آپ کے قلم کو یونہی پختہ وتازہ دم رکھے ، اور علمی وتحقیقی کاموں میں پورے دم خم کے ساتھ سدا سرگرم عمل وتازہ دم رکھے ۔
چند ماہ قبل انہوں نے اپنی چشم کشا ، انتہائی وقیع اور بصیرت افروز کتاب کے دو نسخے ہدیۃً ارسال فرمائے تھے ، جس پہ ہم بے حد شکر گزار ہیں اور مزید ترقیات کے لئے دعاء گو ہیں ۔
اپنی بے ہنگم ذاتی علمی مصروفیات کے باعث اس پہ کچھ لکھنے کا وقت نہ مل سکا تھا جس پہ یک گونہ قلق بھی ہے ۔
کتاب پہ متنوع تسلیم شدہ صلاحیتوں کی حامل ملک کی نامور تعلیمی وصحافتی شخصیات کے بیش قیمت اور انتہائی وقیع پیش لفظ اور تاثرات ثبت ہیں جو کتاب کی نافعیت ، اعتبار ووقار کے لئے سند کا درجہ رکھتی ہیں ، ہم نے تقریباً پوری کتاب پہ سرسری نظر ڈالی ہے ، کتاب خوبصورت زبان وبیان کے ساتھ انتہائی مفید وجامع اور اپنے موضوع پہ منفرد اور اچھوتی تاریخی دستاویز اور موسوعہ کا درجہ رکھتی ہے ، اردو زبان میں اس ضرورت کا شدت سے احساس کیا جارہا تھا ، آں محترم نے اس اہم ترین ملی ضرورت کی تکمیل کردی ہے
اللہ تعالیٰ کتاب کو قبول عام عطا کرے ، مؤلف کو اپنی شایان شان اجر جزیل سے نوازے ، واقعی کتاب اس لائق ہے کہ ہر صاحب علم اسے چشم سر کی راہ سے قلب ونظر میں اتاڑ لے ، کتاب ہر گھر اور لائبریری کی ضرورت ہے ، مسافران علم وتحقیق اور ارباب علم ودانش اسے شوق کے ہاتھوں لیکر قدر کی نگاہوں سے پڑھیں !
شکیل منصور القاسمی
مركز البحوث الاسلامية العالمي
(ہفتہ ، 15؍شوال المکرم 1444ھ، 6؍مئی 2023ء)