مولانا محمد رابع حسنی ندوی:ایک ہشت پہل ہیرا کھودیا ہم نے !

حضرت الامام مولانا سیدابوالحسن علی حسنی ندوی رحمۃ اللہ علیہ کے محبوب بھانجہ ، معتمد اور ان کی وفات کے بعد ان کے جانشیں، دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کے ناظم ، مسلم پرسنل لا بورڈ کے صدر ، عربی واردو کے بلند پایہ کثیر التصانیف ادیب ، تیس سے زائد کتابوں کے مصنف ، رابطہ عالم اسلامی مکہ معظمہ کے رکن تاسیسی ، اسلامک سنٹر آکسفورڈ یونیورسٹی کے رکن تاسیسی ، سینکڑوں اداروں کے سرپرست ونگراں : حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی (ولادت 1929ء) بھی مسافران آخرت میں شامل ہوگئے : إنا لله وانا اليه راجعون
ایک عظیم ترین عبقری علمی شخصیت کی رحلت سے عرب وعجم کی پوری علمی دنیا سوگوار واشک بار !
ممتاز مفکر ، عظیم فقیہ اور دانشور حضرت مولانا قاضی مجاہد الاسلام صاحب قاسمی رحمہ اللہ سابق صدر مسلم پرسنل لا بورڈ کی رحلت کے بعد بورڈ کے نئے صدر کا انتخاب سنہ 2002 میں شہر حیدر آباد میں ہورہا تھا ، یہ عاجز بھی اجلاس کے بعض معزز مہمانوں کے خدمت گزاروں میں تھا
میرے ناظم گرامی حضرت مولانا محمد رضوان القاسمی رحمہ اللہ نے اپنی بے مثال وخداداد ادیبانہ نکتہ سنجی کے ذریعہ پورے مجمع کو زعفران زار بنادیا تھا کہ :
“چار مینار “ کے شہر (حیدرآباد ) میں پرسنل لا بورڈ کے “ چوتھے صدر “ کا انتخاب ہورہا ہے ۔
اس کے لیے حضرت مولانا “ رابع “ صاحب سے زیادہ موزوں کون ہوسکتے ہیں ؟
بس پھر کیا تھا ؟ پورا مجمع حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی رحمہ اللہ ( انہیں آج رحمہ اللہ کہتے ہوئے کلیجہ منہ کو آرہا ہے ) کی صدارت پہ متفق ہوگیا اور آپ پرسنل لا بورڈ کے چوتھے صدر منتخب کرلیے گئے ۔
اپنے دور صدارت میں سیدھے سادھے معقول ، معتدل ، متوازن، اور دل پذیر پیرائے میں آپ نے ملت اسلامیہ ہندیہ کی پوری رہبری فرمائی ، افکار واعمال میں وسطیت اور میانہ روی کے ساتھ تحمل و برداشت، عفو و درگزر ، حلم مزاجی ، رواداری، اخوت و مساوات ، اتحاد ویگانگت اور دیگر دینی اداروں ، افراد واشخاص اور قوم وملت کے تئیں ان کی خدمات کا اعتراف و احترام ، اور فرقہ واریت ومسلکی تشدد سے نفرت و گریز آپ کا وصف ممتاز تھا ، بڑی معقولیت ، حکمت وتدبر ، بالغ نظری اور دور اندیشی کے ساتھ لازوال ، دینی ، علمی ، تحقیقی و تصنیفی ، اور اصلاحی خدمات پیش کیں ، جو لوح تاریخ پہ ثبت رہیں گی ان شاء اللہ ۔
حق جل مجدہ آپ کی مغفرت کرے اور خلد بریں کا مکیں بنائے ، آپ پوری امت مسلمہ کا قیمتی سرمایہ اور متاع گراں مایہ تھے ، بالخصوص دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنوء میں امام ابوالحسن علی ندوی رحمہ اللہ کے اخلاق واقدار کے امین اور ان کے افکار و نظریات کے سچے ترجمان تھے ، آپ کی رحلت صاعقہ اثر بلا امتیاز پوری امت مسلمہ کے لئے عظیم خسارہ ہے ۔ اللہ تعالی اس کی تلافی فرمائے ، آپ کو بلند رتبوں سے نوازے ، دینی ، دعوتی ، علمی ،تحقیقی ، اصلاحی اور ملی وفلاحی بے لوث ومخلصانہ خدمات کو آپ کے لئے زاد راہ اور صدقہ جاریہ بنائے ، امت مسلمہ کو آپ کا نعم البدل عطا کرے ۔
حضرت مولانا کی رحلت کا صدمہ خانوادہ حسنی اور دارالعلوم ندوۃ العلماء کا تنہا صدمہ نہیں ؛ بلکہ تمام علماء اہل حق اور ملی تنظیموں کا اجتماعی صدمہ ہے ، وہ صرف خانوادہ حسنی کا متاع گراں مایہ نہیں ؛ بلکہ پوری ملت اسلامیہ کا قیمتی سرمایہ تھے ، ان کی وفات حسرت آیات ہم تمام کے لئے بڑا خسارہ ہے ، ہم سب ایک دوسرے کی طرف سے تعزیت مسنونہ کے مستحق ہیں ،آپ کی رحلت بالخصوص ندوۃ العلماء کے لئے عالم اسباب میں بظاہر ناقابل بھرپائی خلاء ہے ، اللہ تعالی اس کی تلافی فرمائے ، اس کو ان کا نعم البدل عطا فرمائے ، لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے،آمین ۔
شکیل منصور القاسمی
مركز البحوث الإسلامية العالمي
(جمعرات21؍رمضان المبارک 1444ھ13؍اپریل
2023ء)

Scroll to Top