(سترہویں قسط )
✍️: شکیل منصور القاسمی
شمشیر حیدر قاسمی
خانقاہ امدادیہ ، دارحکیم الامت وغیرہ کی زیارات کے بعد ہمارا قافلہ حضرت حکیم الامت کا وقف کردہ تکیہ قبرستان مسمی بہ “قبرستان عشقبازان ” میں وارد ہوا، یہ ایک بڑا سا باغ نما احاطہ ہے، اس میں بائیں جانب غربی سمت میں فی الوقت مسجد بنی ہوئی ہے، مسجد سے دائیں طرف تھوڑے فاصلے پر چار پانچ فٹ اونچی دیوار سے گھرا ہوا ایک احاطہ ہے ، اس احاطے کے کنارے چاروں جانب کیاری بنی ہوئی ہیں، جن میں بڑے بڑے درخت لگے ہوئے ہیں ، اسی احاطے کے وسط میں کھلی چھت کے نیچے چند کچی تربتیں ہیں ، دو قبریں تو بالکل وسط میں ہیں، ان میں سے مغربی سمت والی قبر جس کے سرہانے تقریبا ایک فٹ اونچا پیلر نصب ہے،
یہی قبر ہے، حکیم الامت ، مجدد الملت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی علیہ الرحمہ کی،اور اس کے پاس والی دوسری قبر حضرت حکیم الامت کی بڑی اہلیہ صاحبہ کی ہے، اور پاؤں کی طرف حضرت حکیم الامت کے برادر خورد جناب منشی مظہر علی تھانوی کا مقبرہ ہے، ان قبروں پر نہ کوئی کلس ، نہ گنبد، نہ چادر اور نہ پھول بس ایک عام سی قبریں ہے، وہاں کسی مجاور اور خادم پر بھی نظر نہیں پڑی، ڈاکٹر صاحب چوں کہ پہلے بھی یہاں متعدد مرتبہ تشریف لا چکے تھے، انھوں نے ہی ہمیں بتایا کہ یہ حضرت حکیم الامت کی قبر ہے، ہم نے فاتحہ پڑھ کر اہل قبور کی بلندی درجات کے لئے دعائیں کیں، وہاں تھوڑے ہی فاصلے پر ایک اور قبرستان ہے، جس میں بہت سی بیری کے درحت لگے ہوئے ہیں ، اسی میں حضرت حافظ ضامن شہید علیہ الرحمہ کی قبر ہے، وہاں فاتحہ پڑھ کر ہم لوگ مسجد آگئے عصر کی دو رکعتیں قصر نماز پڑھ کر دیوبند کے لئے چل پڑے۔
تھانہ بھون سے گہوارۂ علم وہنر تک
سڑکیں اچھی تھیں ، گاڑی اسپیڈ سے چلنے لگی ، ارادہ یہ ہوا کہ درمیان میں نانوتہ پڑتا ہے ، وہاں چند منٹ ٹھہر کر مادر علمی دارالعلوم دیوبند کے سب سے پہلے صدر مدرس ، استاذ حکیم الامت حضرت مولانا یعقوب نانوتوی علیہ الرحمہ کی قبرشریف پر فاتحہ پڑھتے چلیں گے، تھانہ بھون سے نانوتہ تقریبا 18 کلو میٹر کی دوری پر ہے، گاڑی ناتوتہ کی طرف چلتی رہی اور ہم ان خیالوں میں گم تھے، کہ یہ وہی تھانہ بھون ہے، خانقاہ امدادیہ بھی وہی ہے، در ودیوار سب قائم اور باقی ہیں ، الحمد للّہ کسی قسم کی بدعت اور رسم و رواج نے اب تک تھانویت کی بدعت شکنی اور اصلاح الرسوم پر آنچ آنے تو نہیں دیا ہے؛ مگر ہاں ، اب نہیں ہے تو ساقی نہیں ہے!
کاش ! اس دور زیغ و ضلالت میں کوئی حکیمالامت جیسا نباض وحکیم ہوتا، جو امداد واشرف کے اس میخانہ کو آباد رکھتا، اور ہم جیسے بندۂ ہوا و حرص اپنے مردہ دلوں اور افسردہ روحوں کے ساتھ خانقاہ امدادیہ کے آستانے پر حاضر ہوتا اور اپنے دلوں کے زخموں کا علاج اور روحوں کو مسرور وشاد کرتا، اور گناہوں کے عادی نفس کو لگامدیتا، اور پھر
عالم وجد میں ہم یوں گنکنا رہے ہوتے:
ہر تمنا دل سے رخصت ہو گئی
اب تو آ جا اب تو خلوت ہو گئی
وہ ریا جس پر تھے زاہد طعنہ زن
پہلے عادت پھر عبادت ہو گئی
اور کبھی جناب جگر کے یہ اشعار زبان زد ہوتے:
آنکھوں میں بس کے دل میں سما کر چلے گئے
خوابیدہ زندگی تھی جگا کر چلے گئے
حسن ازل کی شان دکھا کر چلے گئے
اک واقعہ سا یاد دلا کر چلے گئے
چہرے تک آستین وہ لا کر چلے گئے
کیا راز تھا کہ جس کو چھپا کر چلے گئے
رگ رگ میں اس طرح وہ سما کر چلے گئے
جیسے مجھی کو مجھ سے چرا کر چلے گئے
میری حیات عشق کو دے کر جنون شوق
مجھ کو تمام ہوش بنا کر چلے گئے
ہم انھیں تصورات میں کھوئے ہوئے تھے کہ یکایک ہماری گاڑی سڑک کے کنارے رکی ، معلوم ہوا یہی نانوتہ ہے، اوریہی ہے وہ باغ جس میں حضرت مولانا یعقوب نانوتوی محو استراحت ہیں، قبر کچی ہے، بدعات کی نحوستوں سے دور ہے،الحمدللہ علی ذلک(جاری )