شیخ عبد القدوس گنگوہی کے روضہ اور خانقاہ رشیدیہ کی زیارت

(قسط نہم )
✍️: شکیل منصور القاسمی
شمشیر حیدر قاسمی
(حضرت شیخ عبد القدوس گنگوہی ہندستان میں اہل تصوف کے اس مقدس گروہ سے تعلق رکھتے ہیں ، جنھوں نے دین کی ترویج و اشاعت کے لئے عظیم قربانیاں پیش کیں، جن کی ذات سے ایک بڑی تعداد نے اکتساب فیض کیا، احسان و سلوک کے منازل طے کیے، بہت سے لوگ راہ رشد و ہدایت پر گامزن ہوئے)
مزار رشیدی سے متنوع احساسات و خیالات لئے ہوئے ہم رخصت ہوئے اور شیخ عبد القدوس گنگوہی کے آستانۂ عالیہ کی طرف چل دئیے ، نماز ظہر کا وقت ہوچکاتھا، مزار کے احاطے میں موجود مسجد میں جماعت تیار تھی، ہم لوگ جلدی جلدی وضوء کرکے جماعت ظہر میں شریک ہوگئے ، نماز سے فارغ ہوکر ہم لوگ گنبد نما اس حجرے میں داخل ہوئے جس میں کئی مزارات ہیں، یہ مزارات زمین سے تقریںاً تین فٹ اونچے بنائے گئے ہیں ، مزارات اسٹیل گرل سے گھرے ہوئےہیں،سبھی مزار ایک بڑی رنگین چادر سے ڈھکے ہوئے ہیں، جس پر پھول چھڑکے ہوئے تھے، دروازے سے بائیں مغربی جانب واقع ایک مزار کو ایک الگ چادر کے ذریعے نمایاں کردیا گیا ہے، وہاں موجود خادم نے اس مزار کے بارے میں بتایا کہ یہ مزار شیخ عبد القدوس گنگوہی علیہ الرحمہ کا ہے، پھر خادم نے مزار کے سرہانے کی طرف سے چادر ہٹا کر ایک سیاہ رنگ کا چھوٹا سا نصب شدہ پتھر دکھایا، اور اس کے بارے میں خادم کا یہ کہنا ہوا کہ یہ وہ پتھر ہے، جس پر حضرت سیدہ فاطمتہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیٹھ کر وضو کیا کرتی تھیں، (لا نصدق ولا نکذب )
الغرض ان مزارات پر اس نوع کے بدعات کا سلسلہ بہت پہلے سے چلا آرہا ہے، حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی علیہ الرحمہ نے ان بدعات کو ختم کرنے کی بڑی کوششیں کیں، اسی کا نتیجہ ہے کہ اس حجرہ کے باہر بدعات کے خاص اثرات نہیں دکھائی دیتے، اور مزار سے متصل مسجد میں بدعتی اثرات نہیں پائے جاتے ، ان مزارات پر فاتحہ خوانی کرکے باہر نکلے تو مسجد کے دائیں سمت سے ایک راستہ مسجد کی پچھم طرف گیا ، جہاں وہ کمرہ ہے، جس میں حضرت گنگوہی علیہ الرحمہ مراقبہ کرتے اور بارگاہ الٰہی میں محو مناجات ہوتے، اس کمرے کے باہر صحن میں ایک چبوترہ ہے، جس پر بیٹھ کر حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی حدیث شریف کا درس دیا کرتے تھے، اسی جگہ کا واقعہ ہے کہ حضرت علیہ الرحمہ حدیث شریف کا درس دے رہے تھے، بارش ہونے لگی طلبہ کمرہ کی طرف بھاگ پڑے، حضرت نے اپنا رومال بچھایا ، تمام طلبہ کی جوتیاں جمع کرکے اس پر رکھنے لگے ، طلبہ دوڑے ہوئے آئے کہ حضرت یہ کیا کر رہے ہیں؟ فرمانے لگے : مہمانان رسول کی جوتیاں ہیں ، سوچا کہیں بھیگ نہ جائیں اس لئے اکٹھا کر رہاہوں”
یہ تھا خلوص وتواضع وبے نفسی اور مہمانان رسول کی توقیر وتعظیم وتکریم !
عرس کے زمانے میں حضرت گنگوہی کی طرف سے سخت ہدایت ہوتی تھی کہ کوئی گنگوہ نہ آئیں ، تاکہ اہل بدعت کی جماعت میں اضافے کا سبب نہ بن سکیں، ایک مرتبہ کا واقعہ ہے، عرس کا زمانہ تھا،حضرت شیخ الہند رات میں گنگوہ پہنچے، حضرت شیخ الہند کو عرس کا علم نہیں تھا، حضرت گنگوہی نے جب دیکھا، سخت ناراضگی وخفگی کا اظہار فرمایا، اور حکم دیا اسی وقت واپس چلے جاؤ ، حضرت شیخ الہند جب واپس جانے لگے تو ایک صاحب نے کہا ابھی رات کا وقت ہے، آپ میرے یہاں ٹھہر جائیں ، صبح کو چلے جائیں ، حضرت شیخ الہند نے فرمایا چوں کہ گنگوہ چھوڑ دینے کا حکم مل چکا ہے، اگر گنگوہ سے نہیں جاؤں گا تو نافرمانی ہو جائے گی، اور اسی وقت گنگوہ سے روانہ ہوگئے،
یہ تھا ہمارے اکابر دیوبند کی بدعت سے نفرت کا واقعہ اور استاذ کے حکم کی تعمیل کا جذبہ !
آہ ، لا کہیں سے چیر کے اسلاف کا قلب و جگر ! ( جاری )

Scroll to Top