ممبئی کا چند روزہ دعوتی سفر
(قسط اوّل )
✍️: شکیل منصور القاسمی
سوشلستان سے مربوط ہونے کے بعد عرصہ سے ملک وبیرون ملک کے متعدد لیلاے علم وفن کے مجنونان بے نفس سے ملنے کی خواہش ، بساط دل پہ سجدہ ریز تھی ۔ جب بھی وطن آنے کا اتفاق ہوتا ہے اپنے ہم نفَس ، ہم مزاج ، ہم کاز و ہم رکاب جواہر پاروں سے ملنے کی کوئی ترتیب اپنے بساط کی حد تک لازمی بناتا ہوں ۔تجارتی وصنعتی امور کے علاوہ ، علم ودانش ، شعور وآگہی ، اور دینی ، ملی ، اور مذہبی امور میں بیش بہا خدمات کے حوالوں سے اہم شناخت وامتیاز رکھنے والے شہر “ ممبئی “ کے رفقاء کار سے ملنے کی تمنا بھی مدتوں سے مچل رہی تھی ؛ لیکن مختلف اعذار اور معقول موانع کے باعث سبھوں کے یکجا ہونے کی کوئی شکل نہ بن پارہی تھی ، اسی دوران کرم فرماے من ڈاکٹر عزیر دستگیر صاحب نے فون کرکے باصرار پروگرام طے فرمادیا اور آمد ورفت کے لئے ہوائی سفر کے آرام دہ ٹکٹ بھی ارسال کردیئے ، چونکہ ان کے ساتھ میرے کچھ نجی اور شخصی مراسم ایسے ہیں کہ ان کے امر عالی کو ٹال دینا میرے بس میں نہیں ہے ، اس لئے ممبئی کے لئے عازم سفر بہر حال مجھے ہوجانا ہی پڑا ۔
یہ ہومیو پیتھک ڈاکٹر ہیں ، ان کے دست پہ اللہ نے شفا رکھی ہے۔ پروفیسر دست گیر عالم مرحوم جو اصلاً سیوان ( بہار ) کے رہنے والے ہیں اور ممبئی یونیورسٹی میں تیس سالوں تک پروفیسر رہے ، پھر تعلیمی ضرورتوں کے تحت منگلور اور حیدرآباد تشریف لے گئے ، دعوت وتبلیغ سے خون جگر سے وابستہ تھے ، اس لائن سے اللہ نے ان سے بہت بڑا کام لیا ہے ، بزرگوں کے معتمد خاص ، علم وعلماء دوست ؛ بلکہ علماء نواز شخص تھے ۔دینی ، تعلیمی ، دعوتی اداروں کی بھرپور سرپرستی فرماتے ، نام کا اثر ذات پہ پڑنا طبعی ہے ، مکمل خموشی اور نام ونمود سے دور، رہ کر ، ادارے اور افراد واشخاص کی جسم وجان کے ساتھ مکمل “ دست گیری “ فرماتے ۔
سال گزشتہ وہ اللہ کو پیارے ہوگئے ، اور کوسہ قبرستان ممبئی میں اپنے خانوادے کے دیگر افراد کے پہلو میں آسودہ خواب ہوئے ، اللہ انہیں غریق رحمت فرمائے اور فردوس بریں کا مکیں بنائے ۔
پروفیسر صاحب کی اولاد اناث کے ساتھ دو لڑکے بھی ہیں ، دونوں مثالی ، فائق اور قابل رشک ! بڑے لڑکے ڈاکٹر عزیر عالم دستگیر ہیں جبکہ دوسرے فرزند ؛ بلکہ سپوت کہہ لیجئے مولانا عمیر صاحب قاسمی مظاہری ہیں ۔( آنے والی سطروں میں ان کا تعارف آرہا ہے )
ڈاکٹر عزیر دست گیر صاحب کو “قریب سے “ پڑھنے اور ان کی فکر اور شبانہ روز کی فعالیت کا بغور اور انتہائی باریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد محسوس ہوتا ہے کہ شاید وہ ملی ضرورتوں کے لئے ہی پیدا کردہ ہیں ، ان کے ذریعہ قوم وملت کی اہم اجتماعی ضرورتوں کی تکمیل ہورہی ہے ، ان کی کد و کاوش اور محنت وریاضت کا محور قوم وملت کا عمومی مفاد ہے۔ ماشاء اللہ فکر “آفاقی “ اور پرواز “لولاکی “ ہے ، خوب سے “خوب تر “ کی تلاش میں رہتے ہیں ۔درس نظامی سے باضابطہ فارغ التحصیل عالم تو نہیں ہیں ؛ لیکن وسعت مطالعہ اور فنون پہ آگہی اس درجہ حیرت انگیز ہے کہ پہلی ملاقات میں بندہ کہہ ہی نہیں سکتا کہ وہ غیر عالم ہیں ، عمر میں ہم سے کوئی ایک دو سال چھوٹے ہونگے ۔ نہایت خلوص، دیانت داری اور مردانگی سے اپنے جسم وجاں ، قلب وقالب : یعنی کہ پورے وجود کے ساتھ ہمہ جہت تعلیمی ، ملی ، مذہبی اور” رفاہی ودفاعی” کاموں میں مربوط و مصروف اور سرگرم عمل رہتے ہیں ،
بلند حوصلگی ، کشادہ نظری ، جود وسخاء اور حلم مزاجی آپ کا وصف ممتاز ہے۔باطنی پاکیزگی کے ساتھ ظاہری حسن وجمال بھی دلکش ودل آویز ہے ( نظر بد دور )
سرخیوں میں آنے اور ذاتی پبلسٹی سے طبعی نفور رکھتے ہیں ، والد کی قائم کردہ مسجد عمر میں مدرسہ اور مکتب کا شاندار اور لاجواب نظام چلاتے ہیں جن میں پا نچ سو کے قریب طلبہ وطالبات تعلیم حاصل کررہے ہیں، شاہ ولی اللہ فقہ اکیڈمی کے بانی وچئیرمین ہیں ۔ ممبئی کے متعدد مقامات پہ اپنا مطب چلاتے ہیں ، اور کامیاب علاج کرتے ہیں ۔قول وعمل میں یکسانیت ہے ۔شخصیات کو بھانپنے کا خداداد ملکہ رکھتے ہیں ۔بڑی بات یہ ہے کہ دینی وملی کاموں میں اپنی قابل ذکر ؛ بلکہ قابل رشک دردمندیوں وفکر مندیوں اور بے لوث عملی جدوجہد کے باعث شہر بلکہ ملک کے اکابر علماء کا آپ کو اعتماد حاصل ہے ۔
ممبئی کا چند روزہ دعوتی سفر
(قسط دوم )
پروفیسر دستگیر عالم صاحب کے دوسرے قابلِ فخر ورشک سپوت مولانا عمیر عالم مظاہری زید مجدہ ہیں۔
جیّد حافظ قرآن اور ممتاز عالم دین ہیں ۔
دارالعلوم دیوبند اور مظاہر علوم سہارنپور
کے فیض یافتہ ہونے کے ساتھ متعدد عصری یونیورسٹیوں سے بھی اعلی ڈگریوں کے حامل ہیں
عمر میں بڑے بھائی ڈاکٹر عزیر صاحب سے وہی کوئی چار پانچ سال کے چھوٹے ہونگے ۔
غضب کی صلاحیت ہے ، ذہانت و فطانت میں طاق ۔۔۔ کئی دماغوں کے انسان ۔۔۔ رسم وفاء نبھانے اور “یارانِ با وفاء” پر پلکیں نہیں ؛ خود بِچھ جانے والے ۔۔۔۔ اردو عربی اور انگلش ہر سہ زبانوں میں یکساں اور حیران کُن عبور رکھتے ہیں ۔ علمی اور قلمی دنیا میں ایک ایسے نام سے معروف ومشہور ہیں جو معمولی صیغہ وہیئت کی تبدیلی کے سوا کوئی بیّن فرق نہیں رکھتا ۔ اس قلمی نام کی ہیبت اچھے اچھوں کے اعصاب پہ طاری رہتی ہے ۔۔۔ بالکل منفرد ونرالی اور ہمہ جہت شان رکھتے ہیں ۔ مسلک حق کے خلاف ادنی سکوت سے بھی انہیں خدا واسطے کا بیر ہے ۔ ان کے مذہب میں مداہنت نام کی کوئی چیز ہے ہی نہیں ، احقاقِ حق اور ابطالِ باطل کا فریضہ نقد انجام دینا ، ہر متجدِّدِ دین کی زبان پر لگام کسنا ، غلط باتوں اور غلط نظریات و تحریرات پہ بروقت تنقید و تنبیہ کرحق گوئی کا فریضہ فوری انجام دینا ان کا شغلِ محبوب ۔۔۔۔ دین حنیف ، عظمتِ اصحاب رسول ، اور مسلک علماے دیوبند کے خلاف اٹھنے والے ہر فتنہ وفتین کی سرکوبی کرنا ان کا شعار ۔۔۔۔ بیانِ حق میں “مصالحت یا مصلحت اندیشی “ کے ازلی دشمن ۔۔۔۔کسی کے رعب میں آتے ہیں نہ کسی کا دبائو قبول کرتے ہیں ، بالکل جری ، نڈر اور مَردِ حُر ۔۔۔۔۔ گزشتہ چند سالوں میں نرگیسیت کے شکار اور خبط عظمت میں گرفتار کیسے کیسے خوش فہموں اور انا پرستوں کا سافٹ ویئرانہوں نے تنہا ہی اپڈیٹ کردیا ہے ۔ آئندہ کے لئے بھی سو گند کھائے بالکل تیار وتازہ دم بیٹھے ہیں ۔ بڑے رئیس ، خوش حال اور متموّل خانوادہ کے لاڈلے اور چشم وچراغ ہیں ۔
ممبرا میں شاہ راہ عام سے متصل عالی شان ذاتی اور جدید سہولیات سے آراستہ وسیع وعریض فلیٹ ، جدید ترین آرام دہ کار ۔۔۔۔۔ حیدرآباد میں مشہور امریکی کمپنی میں اعلی ملازمت پہ متمکن !
ایسے کار آمد اور بافیض فضلاء پہ دل وجان دے بیٹھنا میری بھی کمزوری ہے ۔۔۔ سو میں بھی ان کے فضل وکمال کا اسیر ہوئے بغیر نہ رہ سکا ۔ مرکز البحوث کی وساطت سے رابطہ ہوا اور یہ رابطہ مخلصانہ خلت میں بدلا اور ہر گزرتے دن کے ساتھ مستحکم ہوتا چلا گیا
پانچ چھ سالہ دورانیے پہ محیط اس علمی اور دینی برادرانہ ومخلصانہ قرابت کے باعث دو بدو ملاقات کی تمنا شروع سے تھی ؛ لیکن اس کی کوئی شکل نہ نکل پارہی تھی ۔
تین فروری کو ذریعہ ائیر انڈیا پٹنہ سے ممبئی اترا تو مجھے ائیر پورٹ لینے کے لئے اپنی Innova کے ذریعے مولانا ہی تشریف لائے تھے ۔ ممبئی ائیر پورٹ کار پارکنگ میں کافی دیر ہم دونوں ایک دوسرے کو پانے کے لئے سرگرداں رہے ۔ مولانا حیدرآباد رہتے ہیں ، اور میں تو مکمل نووارد ! پارکنگ سسٹم سے مکمل واقف وہ تھے نہ ہم ؛ ویسے یہاں کا پارکنگ سسٹم بھی کوئی زیادہ بہتر نہیں ہے ۔اس لئے کچھ دیر بھاگ دوڑ کے “اضطراری ورزش” کے بعد بالآخر ہم دونوں ایک دوسرے سے بغل گیر ہوگئے ، اور سالوں کا “خواب ملاقات “ شرمندہ تعبیر ہو گیا ۔ہم دونوں innova پہ بیٹھ کر قیام گاہ کی طرف رواں دواں ہوگئے ۔ میں خود بھی بڑی گاڑی چلاتا ہوں
لیکن مولانا عمیر عالم صاحب کی ڈرائیونگ پہ انگشت بدنداں اور محو حیرت تھا ؛ کہ اس فن میں بھی وہ کتنے ماہر ہیں ؟
ممبئی کا چند روزہ دعوتی سفر
(قسط سوم )
ممبئی کی جا بجا اُدھڑی اور ٹوٹی پھوٹی سڑکوں ( شاید میٹرو تعمیری کاموں کے باعث ہے ) اور بے ہنگم وپُرشور “ عذاب نُما “ ٹریفک کے باعث چند منٹوں کی مسافت گھنٹوں میں طے ہوپائی، ایئر پورٹ سے ممبرا پہنچتے شب کے قریب گیارہ بج چکے تھے ، چند ہی منٹوں میں محب گرامی ڈاکٹر عزیر صاحب بھی اپنی دیگر اہم ترین اور بعض ناگزیر مصروفیات ترک کر کے گھر تشریف لے آئے ۔انتہائی پُرتپاک و پرجوش اور محبت آمیز انداز میں بغل گیر ہوئے اور استقبال کیا ، ہم سب کے سالوں کے “خوابِ دیدار وزیارت “ کی تشکیل و تعبیر ہوئی ، کمال تو یہ ہوا کہ ان کے پھول نما دو معصوم خواہر زادے : ابراہیم و یوسف بھی اس “ضیف بے فیض “ کے استقبال کے لئے دیر شب بیدار وسراپا انتظار تھے ، “ضیف “ آئے اور “ابراہیم “ چشم براہ نہ ہو ! بھلا یہ کیسے ممکن ہے ؟
( قرآنی آیت کی طرف بلیغ تلمیح ہے ) دیکھتے ہی دونوں لپٹ گئے ، دونوں بچے بڑے ہی مہذب اور شائستہ ، اللہ ان معصوموں کو اسلام کا داعی اور تحفظ ختم نبوت کا سپاہی بنائے ۔
باجماعت نماز کی ادائی کے بعد
بساط خوان نعمت بچھائی گئی ، میزبانوں نے انواع واقسام کے لذیذ اور پر تکلف کھانوں کا صرف انتظام نہیں ؛ بلکہ شاندار “ اہتمام “ کر رکھا تھا ، شکم سیر ہوکے خوب کھائے ، پھر چائے وائے کے بعد مختصر سی “مجلس یاراں “ جمی ، دانش و بینش، تبادلہ آراء ، اور فکر وفن کے خیمے تن گئے، علم وآگہی کے سوتے پھوٹ ہی رہے تھے کہ اسی دوران مفتی توصیف صاحب قاسمی زید مجدہ کی کال آئی کہ شکیل سے ملنے کے لئے ہم ابھی آنا چاہتے ہیں ۔ رات کے بھی قریب بارہ بج رہے تھے اور سفری تکان وانہیار کے باعث ہمارے تو “یقیناً بارہ بج “ ہی چکے تھے ، اس لئے میرے حساس و باشعور ومزاج شناس میزبان نے انہیں صبح ملاقات کا وقت دیا ۔اور وہ علی الصباح ہمارے علمی ودعوتی قافلے کا عملاً حصہ بن گئے ۔
اُس وقت مفتی توصیف صاحب انجمن اہل السنہ والجماعت ممبئی کے زیر اہتمام منعقدہ اجلاس تحفظ ختم نبوت بمقام وائی ایم سی اے گرائونڈ ممبئی سینٹرل میں شریک اجلاس تھے
مفتی توصیف صاحب قاسمی سے بھی بندے کا تعارف ، پھر علمی ربط وتعلق سوشلستان کے ذریعے ہی ہوا ، وہ ہم سے کافی جونیئر ہیں ، دارالعلوم دیوبند سے سنہ 2010 میں دورہ سے ، اور 2011 میں تکمیل افتاء سے فارغ ہیں ۔قابل اور باصلاحیت ہیں ، لکھنے پڑھنے کا صاف ستھڑا ذوق رکھتے ہیں ، نظر گہری اور قوت اخذ واستنتاج قابل اطمنان ولائق تعریف ہے ۔تحریر عموماً معقولات سے پُر اور مُسکت ہوتی ہے ۔ اسی لئے نزاعی مسائل میں ان کے خصم کا چراغ زیادہ دیر جل نہیں پاتا ۔ حضرت محی السنہ شاہ ہردوئی قدس سرہ کے زمانے میں راست ان سے اور ان کے ادارہ سے فیض یافتہ ہیں ، اس لئے ان پر وہاں کے “اصلاحی رنگ وآہنگ” کا غلبہ ہے ۔ (الانسان ابن زمانه ومكانه ) مزاج میں تملق ومجاملہ اور طبعیت میں دو رنگی نہیں ہے ، ہم جیسے لوگ تو مزاج ومذاق کی بے جا رو رعایت میں مارے جاتے ہیں ، ماشاء اللہ سے مفتی صاحب ان تکلفات سے پاک ہیں اور بلا رو رعایت “حلق سے” پکڑ لیتے ہیں :
ہر گلے را رنگ وبوئے دیگر است !
“نہی اور ردّ “ کے معاملے میں کسی بھی حکمت ومصلحت کے روادار نہیں ہیں ، فوری اور پوری طاقت سے ٹوکتے ہیں ، اور اس سب میں نیک نیتی اور نصح وخیر خواہی ہی کار فرما ہوتی ہے ۔ ردود میں بعض دفعہ غیر ارادی طور پہ لہجے واسلوب کی شدت در آتی ہے ۔ جس میں ہم لوگوں کی یاد دہانی اور تذکیر کے بعد بڑے کشادہ ظرفی کے ساتھ مناسب حال تعدیل قبول کرلیتے ہیں
خوبیوں کے ساتھ “انسانوں” میں خامیاں بھی لگی ہوئی ہیں ، مجھ سمیت کون اس سے مبرّا ہے ؟ ہمیں افراد واشخاص کے محاسن و محامد پہ نظر رکھ کر ان کی مثبت اور تعمیری صلاحیتوں سے بھر پور فائدہ اٹھانا چاہئے ۔ علمی وتحقیقی ذوق رکھنے والے مثبت افکار و نظریات کے حامل فضلاء سے مجھے قلبی طور پہ لگائو ہوجاتا ہے ، اور ایسوں کی دل سے قدر کرتا ہوں ، آگے بڑھاتا ہوں ، علمی حلقوں میں متعارف کراتا ہوں ، اسپیس دیتا ہوں ، یہ دوسری بات ہے کہ “بعضوں کے لئے یہ “توقیر واکرام مُفرِط “ بد ہضمی کا باعث بن جاتی ہے اور وہ وقت سے قبل ہی “خوشہ پھاڑ “ کے بالا بالا اڑنے لگتے ہیں ، لیکن مصنوعی اور غیر طبعی پرواز اپنے ساتھ خطر ناک “ خطرۂِ افتاد “ رکھتی ہے “ مجبوراً پھر ہمیں “پتنگ کی ڈور “ کاٹ دینا پڑتی ہے ۔ موصوف بھی ماشاء اللہ لکھنے پڑھنے کا اعلی ونفیس ذوق رکھتے ہیں ، دفاع اور شہادت کے احکام اور اس جیسی دیگر علمی کتابیں علمی حلقوں میں قبول عام حاصل کرچکی ہیں
مشہور عالم دین اور ممتاز صاحب قلم وفقیہ حضرت مولانا عتیق احمد صاحب قاسمی بستوی مدظلہ استاذ حدیث دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنوء کے قائم کردہ معہد میں شعبہ افتاء کے مقبول ترین استاذ ہیں ، سات سالوں سے غائبانہ تعارف ہے ، علمی کاموں اور پروگراموں میں ہم نے انہیں شریک کار رکھا ہے ، بعض جزوی مسائل میں اختلاف رائے کے علی الرغم ہم نے ان پہ اعتماد واعتبار کیا ہے
ان کا حسن ظن ہے کہ وہ عاجز سے بے لوث محبت اور دو بدو ملاقات کا اشتیاق رکھتے ہیں ۔ڈاکٹر عزیر عالم صاحب کی کرم فرمائی کہئے کہ وہ اپنے پروگراموں میں شرکت اور عاجز سے ملاقات کروانے کے لئے انہیں بھی لکھنوء سے باضابطہ بلا رکھے تھے ۔ چار فروری صبح سویرے مفتی توصیف صاحب ہماری قیام گاہ پہ سراپا شوق بنے لکھنوء کی بیشمار مٹھائیاں تھامے اور اپنی گراں قدر ، بصیرت افروز اور چشم کشا تصنیف لطیف کے متعدد نسخے لئے تشریف لے آئے ، بالمشافہ ملاقات ہوئی ، سالوں کی “تمناے لقاء “ پوری ہوئی ۔
ہماری قیام گاہ سے قریب دو کیلو میٹر فاصلے پر ایک انتہائی نستعلیقی ، متنوع الجہات ، مجمع فضل وکمال پرکشش شخصیت مکرمی مفتی نثار احمد صاحب قاسمی زید مجدہ (ان کا تفصیلی خاکہ مستقل آئے گا ان شاء اللہ )رہتے ہیں ، وہ “لیلولہ “ کے لئے “ ہم فراش “ ہوچکے تھے ، عاجز کی آمد کی اطلاع پاتے ہی شب کے اس پہر میں ملاقات کے لئے دوڑ پڑے ، گرم جوشی کے ساتھ پر تپاک انداز میں ملاقات کی ، محبتوں اور اپنائیت کے پھول نچھاور کئے ۔
محبت بھرے کلمات کہے ۔ واپس جانا ہی نہیں چاہ رہے تھے ، ہم نے خود کہا اب آپ آرام فرمانے جائیں
مصروفیتوں کے اس زمانے میں اپنے نیاز مندوں کے لئے یہ خلوص وفدائیت واقعی کمیاب ہے ۔ اللہ تعالی حضرت مفتی نثار احمد قاسمی زید مجدہ کو عزتوں اور رفعتوں سے نوازے ۔
ممبئی کا چند روزہ دعوتی سفر
(قسط چہارم )
روز سنیچر 4 فروری سلوی ہوٹل ممبرا میں ناشتہ سے فراغت کے بعد ہمارا چہار نفری قافلہ ( عاجز ، ڈاکٹر عزیر عالم ، مولانا عمیر عالم مظاہری اور مفتی توصیف صاحب ) ظہرانے کے لئے ممبئی سائوتھ کے مشہور ہوٹل شالیمار کی جانب چل پڑا ۔در اصل ہمارے میزبان انتہائی مہمان نواز واقع ہوئے ہیں وہ ہمیشہ موقع کی تاک میں رہتے ہیں کہ انہیں اپنے مہمانوں کی خدمت کا کوئی موقع ہاتھ آئے اور وہ دل کھول کر مہمانوں کی ضیافت کرتے ہوئے رضائے الٰہی کے مستحق بن سکیں ۔
یہ مشغول ترین علاقے میں انتہائی صاف ستھڑا ، نفیس ، اعلی معیار کا حامل تاریخی ریسٹورنٹ ہے ، ہمہ وقت اصحاب ذوق اور لذت آشناے کام ودہن کی رش دیدنی ہوتی ہے ۔ یہ وہی شالیمار ہوٹل ہے جو بھنڈی بازار ممبئی کی شان اور تاریخی حیثیت کا حامل ہے۔ اور شہر میں اراضی کے اعتبار سے بڑے ریسٹورنٹ (تقریباً اٹھارہ ہزار اسکوائر فٹ) میں سے ایک اور شہر کے ممتاز ولی صفت جوان مرحوم شہاب بھائی کی پہچان ہے۔ جن کے والد صاحب نے اس ہوٹل کی بنیاد رکھی۔ حضرت ہردوئی سمیت متعدد اکابر اہل اللہ واولیاء اللہ کے جن کے ساتھ قابل ذکر شخصی مراسم تھے ، دن ڈھلتے ہم سب یہاں پہنچ گئے ، ہوٹل کے ایک حصے میں باجماعت نماز ظہر ادا کی گئی ، دسترخوان والے پُر سکون حصے میں ہم نے اپنی نشست سنبھالی ، انتہائی لذیذ وذائقہ دار کباب ، تندوری اور پلائو نے مشام جان کو معطر کردیا، “دست گیر برادران “ نے خوب دل کھول کر خاطر تواضع کی اور ہم بھی خوب سیر ہوکے کھائے ۔
کھانے سے فراغت کے بعد آج ہمارے پروگرام کا اہم ترین حصہ حضرت مولانا حکیم محمود احمد خان دریابادی سے ملاقات تھا ۔ساڑھے تین بجے شام ملاقات کا وقت متعین تھا ۔شالیمار ہوٹل کے قریب ہی حضرت کی دوکان ہے
ہم چہل قدمی کرتے وقت مقرر پر پہنچ گئے ۔
مولانا دریابادی صاحب کے دربار دُربار میں
زمانہ حال کے جن اہم ترین “نابغہ روزگار “ علماء کی تحریروں ، افکار ، اور مختلف ملی ، فلاحی اور سماجی خدمات نے بندے کو صرف متاثر نہیں ؛ بلکہ گرویدہ بنالیا ہے ان میں ایک اہم اور ممتاز نام محترمی ومعظمی حضرت مولانا حکیم محمود احمد خان دریابادی مدظلہ کا بھی ہے ۔
فتح پور دریاباد سے وطنی تعلق ہے ، جدّی پشتی مشغلہ ممبئی میں یونانی دوائوں کی تجارت ہے ۔ انتہائی بالغ نظر ، اخّاذ ، حلیم الطبع ، روادار ، متین وسنجیدہ ، دور بیں ودور اندیش ، مزاج شناس ، خورد نواز ، علم وعلماء دوست اور بذلہ سنج شخصیت ہیں ، دارالعلوم دیوبند کے ابنائے قدیم میں ہیں ، تحریروں میں غضب کی سلاست ، روانی ، چاشنی اور سحر انگیزی ہوتی ہے ۔ سچ یہ ہے کہ آپ کی شاندار تحریروں کے ذریعے ہی بندہ کے لوح قلب ودماغ پہ آپ کی شخصیت کی عظمت کے نقوش مرتسم ہوئے ۔ متعدد دینی ، تعلیمی اور ملی تنظیموں کے آپ بافیض ذمہ دار وممبر ہیں ، آل انڈیا علماء کونسل کے چیرمین ، مسلم پرسنل لا بورڈ کے معزز رکن ، اور الصفاء اسکول اور امداد یہ ممبئ کے ٹرسٹی ہیں ۔ مختلف مشترک اور بین المسالک ملی پلیٹ فارم پہ بڑی حکمت ودانائی کے ساتھ علماء دیوبند کی کامیاب ترجمانی کرتے ہیں ۔ہمارے حلقے مرکز البحوث کے بھی آپ سرپرستوں میں ہیں ، آپ کے ساتھ متعدد آن لائن اور برقی مجالس میں شرکت رہی اور آپ کے بصیرت افروز وچشم کشا کلمات سے خوب استفادہ بھی کیا ، لیکن بالمشافہ آپ سے ملنے کی تمنا سالوں سے انگڑائیاں لے رہی تھی ، یہاں یہ تذکرہ بیجا نہ ہوگا کہ آپ اولیں شخصیت ہیں جنہوں نے سالوں قبل بندہ ناچیز کو وطن آمد کے موقع سے ممبئی آنے کی دعوت دے رکھی تھی ، حضرت کو جب میرے ممبئی سفر کا علم ہوا تو باضابطہ فون کرکے پروگرام کی تفصیلات پوچھی ، انجمن اہل السنہ کی سہ روزہ مختلف نشستوں میں سے کسی ایک نشست میں احقر کے بیان رکھوانے کی بھی خواہش ظاہر فرمائی ؛ لیکن بندے کا پہلے سے دوسری جگہ پروگرام طے ہوجانے کے باعث کوئی شکل نہ بن سکی ۔وقت مقررہ پر شالیمار ہوٹل سے پاپیادہ مفتی توصیف صاحب کی قیادت میں ہم سب حضرت کے مطب اور دوا خانے پہ حاضر ہوگئے ، مریضوں اور گراہک کی رش دیکھ کر میں حیران سا ہوگیا ، میں اس سوچ میں سراپا غرق تھاکہ اتنے ازدہام کار اور ذہنی مصروفیات و انتشار کے باوجود مولانا لکھنے پڑھنے کے لئے کب اور کیسے وقت نکال لیتے ہیں ؟؟ ناریل کے شریں وفرحت بخش پانی سے ہماری ضیافت کی گئی ، اس دوران حکیم صاحب اپنی ناگزیر مشغولیات سے بعجلت تمام فارغ ہوئے اور پھر ہم سب کو اندر بلالیا ۔
تواضع وانکسار اور مہمانوں کی توقیر واکرام کی حد یہ ہوئی کہ آپ اپنی مخصوص نشست کو اس عاجز کے لئے خالی کردی
اور اس ہیچمداں کو اپنی مخصوص نشست پہ بٹھایا ۔ اس اعزاز واکرام پہ میں تو شرم سے پانی پانی ہورہا تھا ۔ مجھ سمیت تمام رفقاء کار کے ساتھ بڑی اپنائیت اور شفقت کا معاملہ فرمایا ، مزید “نان پانی “ کے ساتھ اکرام کی خواہش کا اظہار فرمایا ؛ لیکن مہمانوں کے شکم میں مزید کی کوئی گنجائش ہی نہ تھی ۔ مختلف امور پہ مختصراً مگر جامع تبادلہ خیال ہوا ، پرانی یادوں کے تذکرے ہوئے ، گہرے روابط اور ان کے وجوہ واسباب کے تراشے سامنے آئے ،
حضرت کو اسی وقت چار بجے کے قریب پرسنل لاء بورڈ کی عاملہ کی اہم میٹنگ میں مطب سے ہی ائیر پورٹ کے لئے نکلنا تھا ، ممبئی کے بے ہنگم ٹریفک عبور کرکے پرواز کے متعینہ وقت پر پہنچ جانا بھی کرامت سے کم نہیں ہے ۔ مہمانوں سے گفتگو میں آپ محو تھے ، تاہم ہمیں وقت کی نزاکت کا ادراک تھا ، ہم نے رخصتی کے لئے ہاتھ بڑھا دیئے ۔
بادل ناخواستہ اور بوجھل دل کے ساتھ ہم حضرت سے رخصت ہوگئے ۔ نئی طبع شدہ اپنی گراں قدر تصنیف کے ساتھ
مختلف کار آمد دوائیوں خصوصاً “ خمیرہ ابریشم حکیم ارشد والا “ کا ہدیہ بھی عطا فرمایا ۔ گھر واپسی کے بعد خمیرہ ابریشم کے بڑے فوائد محسوس کررہا ہوں ، کاش !! یہ نسخہ دسمبر وجنوری میں ہاتھ آجاتا تو “ لذت مخصوص “ دو آتشہ ہوجاتی ۔
حضرت دریابادی صاحب مدظلہ سے شخصی اور نجی طور پر بھی رابطے رہتے ہیں ،
پیش آمدہ اہم امور میں گراں قدر رہنمائی کا فریضہ انجام دیتے ہیں ۔ اس کم علم وبے عمل کو مفید مشوروں سے نوازتے رہتے ہیں ۔ نازک وحساس مواقع پر حوصلہ بڑھاتے اور قوتوں کو مہمیز کرتے ہیں ۔ اللہ تعالی حضرت کا سایہ عاطفت وشفقت تادیر قائم رکھے ۔ ملاقات گوکہ مختصر رہی جس کا اگر چہ قلق ہے ؛ لیکن :
قليل منك يكفيني ولكن
قليلك لايقال له قليل
ممبئی کا چند روزہ دعوتی سفر
(قسط پنجم )
سانتا کروز ، گولی بار میں رد شکیلیت کے خلاف منعقدہ جلسے کی صدارت
واقفان حال سے مخفی نہیں ہے کہ اس وقت مہدی و مسیح ہونے کا دعوی کرنے والے شکیل بن حنیف کا فتنہ مسلسل بڑھتا جارہاہے، ہزاروں مسلمان اس فتنہ کا شکار ہوکر مرتد ہوچکے ہیں ، بہار، یوپی، آندھرا ، کرناٹک ، مہاراشٹر ، گوا اور مدھیہ پردیش جیسی ریاستیں سب سے زیادہ متاثر ہیں ،ممبئی جیسے شہر میں بھی اس عفریت نے اپنے پنجے گاڑ دیئے ہیں ، سانتا کروز ممبئی کے کچھ سادہ لوح نوجوان بھی اس کی زد میں آچکے تھے ، شاہ ولی اللہ فقہ اکیڈمی ( رد فرق باطلہ ، جس کے مقاصد تاسیس میں سے ہے ) کے زیر اہتمام چار فروری بعد نماز عشاء عاجز کی صدارت میں بعنوان تحفظ ختم نبوت ورد ِّ شکیل خانیت اجلاس طے تھا ، اجلاس میں بحیثیت مہمانان خصوصی ملک کے ممتاز اور عبقری شخصیات مدعو تھیں ، میرے لئے اعزاز وسعادت کی انتہا تھی کہ اتنے پُر وقار اجلاس کی صدارت کرنا تھی ۔عشائیہ کے موقع سے ایسی عظیم شخصیات سے ملاقات کا شرف ملا جن کی زیارت کی آرزو سالوں سے تھی ، اس اجلاس کے موقع سے بیشمار علمی ودعوتی شخصیات سے ملاقاتیں ہوئیں ؛ لیکن جن اہم ترین اکابر علماء سے شرف لقاء حاصل ہوا ان میں خصوصیت سے قابل ذکر حضرت مولانا مفتی عزیز الرحمن صاحب فتح پوری مدظلہ مفتی اعظم مہاراشٹر ، مفتی اسعد قاسم صاحب سنبھلی ، اور مولانا وحافظ اقبال احمد صاحب ملی دامت برکاتہم ہیں ۔
حضرت مفتی عزیز الرحمن صاحب فتح پوری مدظلہ ہمارے حلقے مرکز البحوث کے سالوں سے نگراں وسرپرست ہیں ، اس دوران آپ کی بے شمار علوم میں مہارت،استحضار ، بالغ نظری ، وسعت علمی اور رسوخ فی العلم کا مشاہدہ بچشم سر کرچکا ہوں ،اور میری نظروں میں آپ کی جلالت علمی اور عظمت شان اجاگر ہوچکی ہیں ۔یوں تو اکثر علوم وفنون میں آپ بے نظیر دسترس رکھتے ہیں ؛ لیکن علم فرائض میں آپ غیر معمولی خدا داد صلاحیت اور بے پناہ درک وکمال رکھتے ہیں ۔مشکل سے مشکل ترین مسئلہ میراث کو چٹکیوں میں حل کردینا آپ کا وصف ممتاز ہے ۔تکلفات وتصنعات اور ہٹو بچو سے طبعی نفور رکھنے والی پرانی وضع کی عظیم ودلکش شخصیت ہیں ، ممبئی جیسے شہر میں مفادات حاصلہ کے لئے لگے ہوڑ اور شخصی تگ ودو کے آج کے مسابقتی زمانے میں علماے دیوبند کے اخلاص ، للّٰہیت ، استغناء وتوکل علی اللہ کی شاندار روایت کو بڑی پامردی اور حوصلہ مندی سے آپ باقی رکھے ہوئے ہیں ، کبھی بھی آپ نے خود کو “ضمیر“ عوام “ اور تاریخ “ کے سامنے شرمندہ نہیں ہونے دیا ۔ اس استغناء وخود داری کے باعث آپ کو وقتی طور پہ دنیاوی خسارہ بھی برداشت کرنا پڑا ہے ؛ لیکن ان تمام چیزوں سے قطعی بے پروا ہوکر کبھی بھی آپ نے عزت نفس اور حمیت وغیرت کا سودا نہیں کیا ۔ اس بابت لوگ آپ کی مثالیں دیتے ہیں ۔آپ حسن معاشرت سے متصف، ظرافت طبع کے مالک اور حلم و کرم سے مزین ہیں ۔
بلند حوصلگی ، کشادہ نظری اور حلم مزاجی کے ساتھ آپ شہر ممبئی اور صوبہ مہاراشٹر میں علم وعلماء کی سرپرستی میں تن من دھن کے ساتھ مصروف عمل ہیں ،آپ سے مل کر برسوں کی تمنا پوری ہوئی ۔ اللہ تعالی آپ کو صحت وعافیت کے ساتھ لامبی زندگی عطا فرمائے اور آپ کے علمی فیوض وبرکات سے ہم اصاغر کو سدا مستفید ہوتے رہنے کی توفیق نصیب فرمائے ۔
حضرت مفتی اسعد قاسم صاحب سنبھلی مدظلہ کی بعض گراں قدر تحریریں پہلے پڑھ چکا تھا ، آپ کی علمی شخصیت اور مقام و مرتبہ سے غائبانہ واقفیت ہوچکی تھی ، شخصی لقاء سے محرومی تھی ، سو اس مجلس میں اس کی بھی تلافی ہوگئی ، مفتی صاحب انتہائی کم گو ، بسیار فکر ، خاموش مزاج ، متنوع تسلیم شدہ صلاحیتوں کی حامل خالص علمی وتحقیقی شخصیت ہیں ، آپ کی باتیں حشو و زوائد سے پاک ، بالکل قدر ضرورت ، پُر مغز اور وزن دار ومؤثر ہوتی ہیں ، شخصیت میں غایت درجہ تواضع وانکسار ہے ، اکڑ بالکل نہیں ہے ، انتہائی ہنس مکھ ، ملنسار ، خوش مزاج ہیں ۔ سب سے بھر پور طریقے سے ملتے ہیں ۔ردود میں مہارت تامہ ہے ، خصوصاً رد شکیل خانیت میں آپ اتھاریٹی سمجھے جاتے ہیں ، اس نومولود فتنہ ردت کے آپ اولیں نقاب کشائوں میں ہیں ، اس فتنہ وفتین کا آپ نے کامیاب تعاقب کیا اور اس کی ناک میں نکیل ڈالی ہے، کافی دیر تک عاجز سے مختلف موضوعات پہ تبادلہ خیال ہوتا رہا ، پر کیف علمی وادبی ملاقات سے بہرہ مند ہوا ۔ اللہ تعالی مفتی صاحب کو سدا بہار رکھے اور آپ کے فیوض کو عام وتام فرمائے ۔
تیسری اہم شخصیت جن کا علمی شہرہ کافی دنوں سے سن چکا تھا ، مکرمی حافظ اقبال احمد ملی زید مجدہ کی ہے ۔سوچا تھا شیخ الحدیث ٹائپ کے کوئی بھاری بھرکم ، لحیم شحیم شخص ہونگے ، لیکن مل کے حیرت انگیز مسرت ہوئی ، انتہائی متواضع شخصیت ، چال ڈھال انتہائی شریفانہ ، نہ کو ئی اینٹھ اور اکڑ ، نہ ہی مریَل پن، جہاں چاہے بیٹھ گئے اور لیٹ گئے ، کرسی کی طلب رکھتے ہیں نہ مقام ممتاز کی تمنا ، انتہائی خوش مزاج ، بذلہ سنج ، اور نکتہ رس ، باتیں بڑی کار آمد ہوتی ہیں ، نزول مسیح ، اور علامات قیامت جیسی ساری احادیث زبانی یاد ہیں ، قادیانیت اور شکیل خانیت کے لئے آپ ملک الموت سے کم نہیں ہیں، اس موضوع پہ بالاستیعاب گھنٹوں بولتے ہیں اور غضب کا بولتے ہیں ، اس موضوع کی کار آمد باتیں کہیے کہ سامعین کو گھول کے پلا دیتے ہیں ، بڑے جفا کش ، تاج ختم نبوت کے تحفظ و پہرہ داری میں سب کچھ وار دینے پہ ہمہ وقت آمادہ ! میرے ہم عمر ہیں ، بالکل تازہ دم اور وسیع المطالعہ ، ملکی پیمانے پر شکیلیت کے خلاف عقابی نظر کے حامل ، کئی جہتوں سے آپ کی شخصیت محیر العقول ہے
کئی روز سفر و حضر میں آپ کی رفاقت رہی ، خوش مزاج اتنے کہ سفری مشقتوں کا احساس تک نہیں ہونے دیتے
قادیانیت و شکیلیت کے خلاف کارہائے نمایاں انجام دینے کے باعث اکابر علماء کے منظور نظر ہیں ، آپ سے نہ ملتا تو سمجھئے میرا سفر ممبئی ناقص رہتا ۔ اللہ آپ سے دین متین کا خوب سے خوب کام لے ۔
ان کے علاوہ نئے مسائل وچیلنجس پہ گہری نظر رکھنے والے نوجوان فضلاء : مفتی جنید احمد پالنپوری ، مفتی لطیف الرحمن صاحب اور مولانا شاہد صاحب اعظمی وغیرھم سے بھی یادگار وکار آمد ملاقات رہی ۔یہ سارے نوجوان فضلاء بڑے اخلاص وتند ہی اور جوش وخروش کے ساتھ بے لوث خدمات دین میں مصروف عمل ہیں ، اللہ ان حضرات کا حامی وناصر ہو ، اور ہمیشہ جانب منزل رواں دواں رکھے ۔
سانتا کروز گولی بار کا یہ اجلاس بڑا کار آمد اور نتیجہ خیز رہا ، محترم ڈاکٹر عزیر عالم صاحب ناظم جلسہ تھے ، عاجز سمیت جملہ مہمانان خصوصی کے موضوع سے متعلق چشم کشا بیانات ہوئے ، سامعین میں اس فتنہ ردت کے تئیں بیداری آئی ، حافظ اقبال احمد صاحب ملی نے شکیل خانیوں کو مناظرے کا چیلنج بھی دیدیا ، تمام مسالک کے متفقہ فتوی تکفیر کی دستخط شدہ سینکڑوں کاپیاں لوگوں میں تقسیم کی گئیں ، شاہ ولی اللہ فقہ اکیڈمی نے علاقہ میں پھیلتے فتنہ ردت کی روک تھام کے لئے بروقت ایسا کامیاب جلسہ منعقد کرکے “ کار “ نہیں ؛ “ کارنامہ” انجام دیا ہے ۔ اس کے ذمہ داران بجا طور شکریہ کے مستحق ہیں ۔
ممبئی کا چند روزہ دعوتی سفر
(قسط ششم )
پانچ فروری بروز اتوار صبح سویرے مسجد عمر میں شکیل خانیت پہ کام کرنے والے رفقاء کی مشاورت تھی ، جس میں
درجنوں فعال ، فکر مند و تازہ دم جواں سال مخلص عملی اور میدانی شخصیات حاضر تھیں ،میرے لئے مسرت آمیز امر یہ بھی تھا کہ فتنہ شکیلیت کے خلاف آغاز سے ہی مسلسل ومنظم ومستحکم کام کرنے والے بے لوث خادم محترمی ذیشان احمد صاحب (خادم مجلس تحفظ ختم نبوت پٹنہ) سے شرف ملاقات حاصل ہوا ۔ مولانا عمیر عالم صاحب کی زبانی غائبانہ ان کے کارناموں اور قربانیوں کو سن کر ان سے ملنے کی خواہش بے چین کئے ہوئی تھی ، ذی شان بھائی ہمارے پڑوسی ہیں اور ضلع کھگڑیا کے مردم خیز قصبہ جلکوڑہ کے رہنے والے ہیں ، پھلواری شریف پٹنہ میں بھی اپنا گھر ہے اور حسب موقع وہاں بھی اقامت رہتی ہے
پیشہ سے انجنیئر اور تاجر ہیں
ذی شان بھائی اس وقت سے ہی اس فتنہ کا کامیاب تعاقب کررہے ہیں جب وہ دہلی میں اپنی سرگرمیاں پھیلا رہا تھا
ان پہ شکیلیوں نے حملہ بھی کیا لیکن جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے ؟ بال بال محفوظ رہے اور پھر اس دن کے بعد سے ان کا جوش وخروش اور عزم جواں مرد اور بڑھ گیا ہے
ملک میں پھیلتے اس سیلاب بلاخیز پہ بند باندھنے اور اس کی روک تھام کی شکلوں پہ تفصیل سے غور وخوض ہوا
اور مستقبل کا لائحہ عمل طے کیا گیا ۔ درجنوں مہمانان خصوصی کے علاوہ مولانا حافظ اقبال احمد ملی اور ڈاکٹر عزیر عالم دستگیر صاحبان کی فکر مندیوں کے سبب یہ نشست بڑی کامیاب اور نتیجہ خیز رہی ۔
شاہ ولی اللہ فقہ اکیڈمی میں
مسجد عمر سے بالکل متصل جانب مغرب شاہ ولی اللہ فقہ اکیڈمی قائم ہے
مشاورتی نشست میں چند گھنٹوں کے وقفے کے دوران اکیڈمی کے بانی مبانی ڈاکٹر عزیر عالم ، میرے رفیق درس مفتی مطیع الرحمن صاحب قاسمی ، اکیڈمی کے علمی روح رواں مفتی نثار احمد صاحب قاسمی ، مولانا عمیر عالم مظاہری اور مفتی توصیف صاحب قاسمی کے ہمراہ اکیڈمی حاضر ہوئے ، نیے پیش آمدہ مسائل میں غور وخوض ، بحث وتحقیق ، شرعی رہنمائی ،
سلگتے مسائل اور رد فرق باطلہ پہ حالات و تقاضے کے مطابق جلسے اور سمپوزیم کا انعقاد ، اہم علمی مقالات وکتابوں ولٹریچروں کی تحقیق ، طباعت واشاعت جیسے اہم ترین مقاصد کے لئے سن دوہزار چودہ میں اکیڈمی قائم ہوئی ہے، صوبہ مہاراشٹر کے مفتی اعظم ، حضرت مولانا مفتی عزیز الرحمن صاحب مدظلہ اس کے سرپرست اور مشہور علمی شخصیت اور ممتاز عالم دین حضرت مولانا سید محمد حذیفہ صاحب قاسمی اس کے نگراں ہیں ، جواں سال عالم دین
مفتی نثار احمد صاحب قاسمی اکیڈمی کے ناظم اعلی ہیں
کتابوں اور اہم ترین مصادر کا معتدبہ قیمتی ذخیرہ یہاں موجود ہے ماشاء اللہ ۔
اکیڈمی ، اس کی خدمات اور مستقبل کے اس کے علمی وفقہی اور تحقیقی منصوبوں اور جامع خاکوں کو قریب سے پڑھنے کا اتفاق ہوا ۔بڑی مسرت ہوئی اور قلبی اطمنان حاصل ہوا ۔الحمد للّٰہ ۔
اکیڈمی کے بانی مبانی محترم ڈاکٹر عزیر عالم دست گیر صاحب ، ان کے دست وبازو ( سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِأَخِيكَ) ، معاون کار ، برادر صغیر فاضل محقق مولانا عمیر صاحب مظاہری اور علمی روح رواں ، فاضل نوجواں مکرمی مفتی نثار صاحب احمد قاسمی زید مجدہ قابل صد مبارکباد ہیں ، جو شبانہ روز اکیڈمی کی ظاہری ومعنوی ترقیوں اور حصولیابیوں کے لئے سرگرم عمل رہتے ہیں۔
اللہ تعالی اس پوری ٹیم کو ہمیشہ تازہ دم ،پئے مقصد رواں ، ہر دم جواں اور جانب منزل رواں دواں رکھے ۔اور اکیڈمی کو مسافران علم وتحقیق کے لئے شجر سایہ دار بنائے ۔
اکیڈمی کے مدیر عام مفتی نثار احمد قاسمی ہیں ، سن دوہزار چار میں دارالعلوم دیوبند سے فراغت ہے ، پھر مرکز المعارف ممبئی میں انگریزی زبان میں تخصص کیا ، انتہائی مہذب وشائستہ ، خوش اخلاق ، شستہ زبان، شائستہ انداز، سلیقے کا لباس، عالمانہ وقار کےساتھ منکسرانہ طرز تکلم، مجسم نستعلیقیت کا پیکر ہیں ، مجمع اوصاف وکمالات ہیں ، عربی اور انگریزی میں قابل رشک عبور رکھتے ہیں ، اعلی ، اچھوتے اور نفیس ذوق وشوق کے حامل ، نصف درجن سے کچھ کم اعلی قسم کے موبائل اور لیپ ٹاپ ، شںاندار بائیک اور حد وشمار سے باہر زرق برق لباس رکھتے ہیں ماشاء اللہ ۔بڑے خود دار ، غیور ، کشادہ دست اور سخاوت پیشہ ہیں ۔
پروفیسر دست گیر عالم مرحوم کے چہیتے اور منظور نظر تھے
اپنے بیٹوں کی طرح انہیں رکھا ، عزت وتوقیر دی ، آگے بڑھایا ، ہمت وحوصلہ بخشا ، پروفیسر صاحب کے“فرزندان باتوفیق” بھی اس رشتے کو نہ صرف باقی رکھا ؛ بلکہ اس میں مزید استحکام ودوام بخشا ہے
باہمی اشتراک و تعاون کے ساتھ ہر علمی کام میں مفتی صاحب کو رفیق کار بناکر آگے بڑھتے ہیں
اللہ تعالی مفتی نثار احمد صاحب قاسمی زید مجدہ کو سلامت باکرامت رکھے
ممبئی کا چند روزہ دعوتی سفر
(قسط ہفتم )
*مسجد زکریا ( قسمت کالونی، امرت نگر، کوسہ ممبرا) میں عظیم الشان جلسہ تحفظ ختم نبوت ﷺ. وردّ شکیل خانیت *
مورخہ 5 فروری 2023
بعد نماز عشاء مجلس تحفظ ختم نبوت ﷺ ممبرا، شاہ ولی اللہ فقہ اکیڈمی کے زیر اہتمام مسجد زکریا میں شاندار اجلاس منعقد ہوا ، حضرت مولانا مفتی عزیز الرحمن صاحب فتحپوری دامت برکاتہم مفتی اعظم مہاراشٹر ورکن شوریٰ دارالعلوم وقف، دیوبند و مظاہرعلوم سہارنپور سرپرستی فرمارہے تھے ، حضرت مولانا حافظ اقبال ملّی صاحب ناظم مرکز احیاء السنہ، مالیگاؤں مقرر خصوصی ، مفتی توصیف صاحب قاسمی مہمان خصوصی تھے جبکہ عاجز صدر اجلاس تھا ، مقرر خصوصی نے ایک گھنٹہ سے زائد ، متعلقہ موضوع پر انتہائی جامع ، چشم کشا اور بصیرت افروز مدلل ومفصل خطاب فرمایا ، سرپرست محترم کے بھی قیمتی وانتہائی کار آمد ارشادات و فرمودات سامنے آئے ، ہیچمداں صدر اجلاس نے بھی چودہ منٹ صدارتی خطاب پیش کیا ، کثیر تعداد میں سامعین موجود تھے ، مقامی علماء وحفاظ کی تعداد بھی تقریباً ایک درجن سے زائد تھی ، بعض صاحبان دل کا خطاب اس قدر سوز وگداز والا اور سحر انگیز واثر انداز تھا کہ شرکاے مجلس جذباتی اور آب دیدہ ہوگئے ، بعضے کو دہاڑیں مار کے روتے بھی دیکھا گیا ، اجلاس کے آخر میں اس بے مایہ صدر اجلاس کو اس کی علمی اور فقہی خدمات کے اعتراف میں شاہ ولی اللہ فقہ اکیڈمی کی طرف سے عربی زبان میں مفتی اعظم مہاراشٹر کے ہاتھوں سند اعزاز پیش کیا گیا ، جو بندہ عاجز کے لئے بہت بڑا سرمایہ اعتزاز و افتخار ہے ۔ فاضل نوجواں محترم مولانا عمیر عالم قاسمی مظاہری زید مجدہ نے اس سپاس نامہ کو ارقام فرمایا تھا ، سپاس نامہ کی زبان وبیان اور روانگی و شستگی سے محرر محترم کی عربی زبان پہ دسترس اور عبور کا صحیح معنوں میں احساس وادراک ہوتا ہے ، مفتی نثار احمد قاسمی زید مجدہ نے سپاس نامے کے عربی متن کا اردو ترجمہ بھی اردو داں سامعین کی آگاہی کے لئے پیش کیا ، بندہ عاجز اپنی ذات اور لیاقت واہلیت سے بخوبی واقف ہے ، اتنے بڑے اعزاز وتوقیر کا اہل نہیں تھا ، اکیڈمی کے ذمہ داران بالخصوص ڈاکٹر عزیر عالم و مولانا عمیر صاحبان کے حسن ظن و محبتوں کے بیحد شکر گزار ہیں کہ انہوں مجھے اس لائق سمجھا اور بے مثال اعزاز واکرام سے سرفراز کیا ، فجزاھم اللہ احسن الجزاء وادام بیننا الحب والوفاء ۔

پورا پروگرام دی انٹرنیشنل مفتی یوٹیوب چینل پر نشر بھی ہوا اور وہاں موجود بھی ہے ۔اختتام اجلاس کے بعد عشائیہ کا نظم بلکہ اہتمام مسجد عمر میں تھا ، مفتی اعظم مہاراشٹر حضرت مفتی عزیز الرحمن صاحب فتح پوری ، مفتی توصیف صاحب قاسمی اور مولانا عمیر عالم مظاہری کے ہمراہ شاندار ودل خوش عشائیہ سے شکم سیر ہوئے ، دستر خوان پہ حضرت مفتی عزیز الرحمن صاحب مدظلہ نے مختلف قیمتی وکار آمد روئیداد حیات سنائی ، جن سے ہمیں دامن مراد بھرنے اور بہت کچھ سیکھنے کا حسین موقع ملا ۔
ممبئی کا چند روزہ دعوتی سفر
( آٹھویں و آخری قسط )
پانچ فروری تک پروگراموں کی مصروفیات سے نمٹ گئے ، سات فروری کو صبح سویرے پٹنہ کے لئے میری پرواز تھی ، صرف ایک دن ہمارے پاس خالی تھا ، جسے ہمارے میزبان مکرم نے تاریخی اور سیاحتی مقامات کی سیاحت ، معروف دین وملی شخصیات سے ملاقات اور مشہور ومعروف ریسٹورنٹوں کے خوش ذائقہ کھانوں سے لطف اندوز ہونے کے لئے مختص کردیا تھا ۔
آج کی سرگرمیوں کا آغاز محترم ڈاکٹر ابو التمش فیضی صاحب کی ملاقات سے ہوا ۔
سرزمین بہار کے آپ قابل فخر سپوت اور گوہر نایاب ہیں ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اعلی ترین قابل رشک فضلاء میں ہیں ، اکابر علماء کے معتمد ومنظور نظر رہے ہیں، اعلی ترین ڈگری کے حامل اور اعلی حکومتی مناصب پہ فائز رہے ہیں ؛ لیکن بایں ہمہ خود انتہائی سادگی پسند، درویشانہ صفت کے حامل اور صوفی منش بزرگ ہیں ، انتہائی دور اندیش ، اور عزیمت پسند ہیں ، انہوں نے اپنے خداداد علمی مقام ، حکومتی رسائی اور اثر ورسوخ کو کبھی اپنی ذات یا اپنی اولاد کے ذاتی مفادات ومقاصد کے حصول کا ذریعہ نہیں بنایا، بلکہ اپنی صلاحیتوں، محنتوں اور سوچ وفکر کو دین وشریعت کے تحفظ اور قوم وملت کی خدمات میں صرف کیا۔پروفیسر دست گیر عالم صاحب مرحوم کی مخلصانہ نگرانی ، سرپرستی اور دست گیری نے ان کی “قوت پرواز “ کو مزید بلندی واستحکام بخشا ۔ اعلی سرکاری عہدوں پہ فائز رہے ، لیکن ملی ، سماجی اور فلاحی کاموں اور خدمت خلق کے بے پناہ جذبوں نے انہیں بالآخر اپنی جانب کھینچ لیا ۔ سارے عہدوں سے خود ہی کنارہ کش ہوکے خدمت انسانیت میں جُٹ گئے ۔ عاپ پارٹی کی طرف سے ایم ایل اے کے امیدوار بھی تھے ، اقتدار کی بجائے وہ اقدار کی سیاست کرتے ہیں ، ظاہری طور پہ گوکہ وہ کامیاب نہ ہوسکے ۔ مگر علاقہ مکینوں کے دلوں پر ان کی حکومت باقی ہے ، ہار جیت تو ہر کھیل کا حصہ ہے ، انسانی جبلت کا خاصہ ہے کہ وہ “ کامیابیوں “ سے نہیں ؛ “ ناکامیوں “ سے سیکھتا ہے ، ٹھوکریں کھاکر ہی اس کا شعور پختہ ہوتا ہے ، اگر زندگی میں صرف کامیابیاں ، کامرانیاں اور حصولیابیاں ہی ہوں تو سیکھنے اور اخذ نتائج کا عمل رک جائے ، شعوری ارتقاء کا سلسلہ تھم جائے ۔
موصوف ہمیشہ قوم وملت کے سلگتے مسائل اور ان کے حل میں پگھلتے رہتے ہیں ۔ ڈاکٹر عزیر عالم صاحب کی رہبری میں ان کے گھر پہ ہماری حاضری ہوئی ، بڑا اکرام فرمایا۔
ان سے مل کے ہم بیحد متاثر ہوئے اور ان کی شخصیت کی عظمت کے قائل بھی ۔ تھوڑی دیر ملی مسائل پہ بات چیت ہوئی پھر ہم لوگ وہاں سے رخصت ہوگئے ۔
ہماری اگلی منزل حکیم اجمیری صاحب رحمہ اللہ کے خلیفہ ، صالح اور بزرگ عالم دین حضرت مولانا مفتی جمشید صاحب حقی قاسمی بھاگلپوری مدظلہ کی زیارت تھی ، شاید 1989 کی دارالعلوم دیوبند سے آپ کی فراغت ہے
ممبئی جیسے شہر کی چمک دمک سے بالکل عاری وخالی ایک چھوٹے سے کمرے میں گوشہ نشیں ، قد چھوٹا ، جسم وجثہ خفیف ، لیکن فکر بہت بڑی ، عزائم پہاڑ سے بھی بہت بلند ! ملکی اور بین الاقوامی پل پل کے حالات سے مکمل واقفیت اور آگاہی ، مسجد ومدرسہ کے ساتھ اپنا چھوٹا سا یونانی مطب چلاتے ہیں ، انتہائی خوش خلق ، غیور و مہمان نواز! چاے وائے سے ہماری ضیافت فرمائی ، اللہ آپ کو صحت وعافیت کے ساتھ لمبی زندگی عطا فرمائے ۔
ہمارے میزان ، رہبر وسائق ڈاکٹر عزیر عالم مجھے ، مولانا عمیر عالم صاحب اور مفتی توصیف صاحب کو لیکر ممبئی کے انتہائی دلکش سیاحتی مقامات کی طرف نکل گئے ، گھنٹوں ہمیں مختلف مقامات کی سیر کراتے رہے ، ہم لوگ بھی چمک دمک رعنائی اور دل کشی میں یوں گم ہوئے کہ ہمیں گھڑی کی سوئی کی رفتار کا پتہ ہی نہ چلا !
ادھر ظہرانے کا وقت بھی ہوا چاہتا تھا اور ہمارے “ بطن مبارک “ قُل قُل “ کا ورد کرنے لگے تھے ۔ ڈاکٹر صاحب نے آج ہمارے ظہرانے کا نظم ایسے مشہور ریستوران میں کر رکھا تھا جو اپنی حسن کار کردگی اور بہترین سہولیات کے باعث
مشہور ومعروف ہے
یعنی کہ ہم لوگ “ فیمس بریانی ہائوس “ پہنچے ، جو 1942 میں قائم ہوا ، جہاں تقریباً تمام ہی مشہور فلمی ستارے بریانی کھانے وارد ہوچکے ہیں ، سنا تھا کہ یہاں کی دَم کی بریانی بڑی شہرت رکھتی ہے ۔ جب سامنے آئی تو ہم سابق کی ساری بریانی بھول گئے۔ واقعی ! جتنا سنا تھا اس سے بہت زیادہ پایا ، انتہائی خوش ذائقہ ، روح پرور اور شاندار ! میں خود بھی حیدرآبادی بریانی بنانے میں بدنام ہوں ؛ پَر یہاں کی بریانی کھاکر مجھے بھی اپنی فن کاری پہ شرم سی آنے لگی ۔بالکل شکم سیر ہوکر کھائے اور خوب کھائے ، تازہ دم ہوکے یہاں سے نکلے اور قیام گاہ پہونچے کہ شام سے ہمارے رفقاء کار کی روانگی شروع ہوگئی
پہلے مفتی توصیف صاحب نے الوداع کہا اور لکھنوء کے لئے عازم سفر ہوئے
پھر مولانا عمیر عالم صاحب بھی حیدرآباد کے لئے نکل گئے
اب میں اکیلا بچ گیا ، تنہائی کے آثار چہرے سے جھلکنے لگے
وحشت وغربت کا احساس سا ہونے لگا ۔ دونوں بازو کٹے ہوئے طائر کے مانند جسم بے جان !
ڈاکٹر عزیر عالم صاحب کے ہمراہ پھر ان کے گھر آگیا
ان کے والد مرحوم کے کمرے میں —جہاں ملک بھر کے علماء واولیاء اللہ قیام کرچکے ہیں —( اور وارد وصادر علماے دین کے شبستان بنتے رہنے کا جسے اعزاز حاصل رہا ہے )ایک شب قیام کیا ۔ ڈاکٹر صاحب نے یہاں بھی بڑا اکرام فرمایا ۔ مفتی نثار احمد صاحب قاسمی زید مجدہ بھی دیر گئے شب تک ساتھ رہے ، سامان اور بیگ کی سیٹنگ بھی انہوں نے خود سے کی ۔ سفر کے لئے ایک حسین و جمیل “ ہم سفر “ بھی عطا فرمایا ۔
ڈاکٹر عزیر صاحب کی ذرہ نوازی کا قائل تو پہلے سے ہی ہوچکا تھا ؛ پَر ان کی رفیقہ حیات کے سلوک اور حسن معاشرت کا تجربہ نہیں ہوا تھا
چند گھنٹوں کے قیام نے یہ بھی آشکار کردیا کہ تنہائی کے اضطراب میں، مصیبتوں کے ہجوم میں اور ستمگاریوں کے تلاطم میں تن من دھن سے مکمل ساتھ دینے والی ڈاکٹر صاحب کی وفادار ووفا شعار مثالی “رفیقہ حیات “ اپنی خوش خلقی اور اعلی اخلاقی اقدار ، جود وسخاء میں بھی کس قدر ممتاز ہیں ؟
فجر بعد متصلاً روانہ ہونا تھا
چائے وائے اور پر تکلف ناشتے کے بعد ساڑھے سات بجے صبح
چشم تر اور دیدہ نم کے ساتھ ہم ایک دوسرے سے جدا ہوگئے
دنیا واقعی جدائی ہی کی جگہ ہے ، یہاں کسی رشتے کو بھی دوام وقرار نہیں ، سارا اجتماع افتراق پہ ہی منتج ہوتا ہے
اللہ تعالی ڈاکٹر عزیر صاحب اور ان کی پوری فیملی کو اس اعزاز واکرام پہ اپنی شایان شان دارین میں بہترین بدلہ عطا فرمائے ، ان کے والد کو غریق رحمت فرمائے
یار زندہ صحبت باقی
شکیل منصور القاسمی
۱۹ فروری ۲۰۲۳ اتوار