اچانک کی موت تحفہ ہے یا غصہ خداوندی کا اثر ؟

موت ایک اٹل حقیقت ہے ۔اس سے کسی کو مفر نہیں۔زندگی کے چمکتے دمکتے شمع گل ہوجانے یاشاخ پہ چہچہاتے چڑیا کے اڑ جانے کا نام موت ہے۔

اللہ نے ہر انسان کی موت کا وقت متعین کیا ہے ۔موت خواہ جس سبب سے بھی آئے اللہ کے علم ازلی کے مطابق آتی ہے۔۔لمحہ بھر کی تقدیم وتاخیر کا بھی اس میں امکان نہیں۔اللہ کے لئے کوئی بھی موت “اچانک ” نہیں۔بلکہ طے شدہ وقت کے مطابق ہی آتی ہے۔

لیکن بیماری اور بڑھاپا جیسے اسباب کے پیش نظر انسان نے موت کو “طبعی ” اور “غیر طبعی ” (اچانک ) کے خانوں میں

تقسیم کر رکھا ہے ۔یعنی اگر انسان بیمار یا بوڑھا ہوکے مرے تو لوگ اسے طبعی موت کہتے ہیں ۔جبکہ ایکسیڈنٹ، غرقابی یا قتل وغیرہ سے مرے تو اسے اچانک کی موت کہتے ہیں ۔

یہ تقسیم مخلوق خدا کے علم کے پیش نظر ہے ۔نہ کہ خالق کے علم ازلی کے پیش نظر۔

اسلام نے اپنے ماننے والوں کو یہ تعلیم دی ہے کہ دنیا عیش وعشرت اور زیب وزینت کے لئے نہیں۔بلکہ یہ رنج وراحت کی جگہ ہے۔حقیقی ناز ونعمت، عیش وعشرت تو فنائے دنیا کے بعد آخرت یعنی جنت میں ملے گی ۔وہاں ایسی ایسی نعمتیں وآرائشیں ہیں جو انسان کے حواس خمسہ ظاہرہ کے تصور سے بھی وراء ہیں۔

الدُّنيا سِجنُ المؤمنِ وجنةُ الكافرِ

الراوي: أبو هريرة المحدث: مسلم – المصدر: صحيح مسلم – الصفحة أو الرقم: 2956

خلاصة حكم المحدث: صحيح

3072 حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّهُ أَعْدَدْتُ لِعِبَادِي الصَّالِحِينَ مَا لَا عَيْنٌ رَأَتْ وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ وَلَا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ فَاقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ ( فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ )

اسی حقیقی زندگی کے حصول میں ہمیشہ کوشاں و سرگرداں رہو ۔قلب وذہن میں ہمیشہ اسی کی فکر ، اس کی طرف کوچ کرنے اور وہاں کی نعمتوں کے حصول کے لئے درکار اعمال صالحہ کے اکتساب میں دنیا میں محنت ،مشقت اور ریاضتیں کرو۔

2307 حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثِرُوا ذِكْرَ هَاذِمِ اللَّذَّاتِ يَعْنِي الْمَوْتَ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ ۔سنن الترمذي. كتاب الزهد

اسلام نے زیرک ،ہوشیار ،دانا اور چالاک اس شخص کو قرار دیا ہے جو موت کو ہمیشہ پیش نظر رکھے۔اور جنت کی نعمتوں کے حصول کے لئے اعمال صالحہ انجام دیتا رہے۔ دنیا کے اس قید خانہ کی کلفتوں وتنگ نائیوں سے نکل کر اخرت کی وسعت لامحدود میں پہونچنے حیراں وسرگرداں رہے۔

الكَيِّسُ مَن دان نفسَه وعمِل لما بعدَ المَوتِ والعاجِزُ مَن أتبَعَ نفسَه هواها وتمنَّى على اللهِ

الراوي: شداد بن أوس المحدث: الترمذي – المصدر: سنن الترمذي – الصفحة أو الرقم: 2459

خلاصة حكم المحدث: حسن

۔۔۔۔۔۔۔ذکر موت اور فکر آخرت کی اسی کیفیت کے ساتھ

غیر طبعی اسباب کے تحت اچانک کوئی مومن انتقال کرجائے تو اس میں اس کا کچھ

ضیاع وحرج نہیں۔بلکہ یہ اس کے لئے تحفہ ہے۔۔۔۔

حافظ عسقلانی کے بقول بعض انبیاء وصالحین کی موت اسی طرح آئی ہے ۔

لیکن جو بندہ دنیا کو ہی دار القرار سمجھ بیٹھے ۔اس کی زینت وزینت عیش وعشرت میں الجھ کر دار حقیقی آخرت کو بھول بیٹھے ۔غفلت اور معاصی کی زندگی میں بری طرح لت پت ہو ۔ایسے غافل، فاسق وبدکردار بندہ کو جب اچانک موت آئے گی تو ظاہر ہے نہ اسے توبہ کی توفیق ملے گی ۔نہ تلقین کلمہ کی نہ اعمال صالحہ انجام دینے کی نہ وصیت کرنے کی نہ دوسروں کے حقوق ادا کرنے کی ۔۔۔۔۔۔خدا کی ڈھیر ساری نافرمانیوں کے ساتھ اچانک گدھے کی طرح ہربڑا کے حسرت وافسوس کرتا ہوا مرجائے گا ۔

ایسے بندوں کے لئے اچانک کی موت غصہ خداوندی کا اثر اور خود اس بندے کے لئے حسرت و افسوس کی باعث ہے ۔ ۔۔۔۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح کی اچانک کی موت سے پناہ مانگا کرتے تھے۔

1322 حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ أَخْبَرَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أُمِّي افْتُلِتَتْ نَفْسُهَا وَأَظُنُّهَا لَوْ تَكَلَّمَتْ تَصَدَّقَتْ فَهَلْ لَهَا أَجْرٌ إِنْ تَصَدَّقْتُ عَنْهَا قَالَ نَعَمْ

صحيح البخاري. كتاب الجنائز

3110 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ شُعْبَةَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ أَوْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ خَالِدٍ السُّلَمِيِّ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَرَّةً عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ مَرَّةً عَنْ عُبَيْدٍ قَالَ مَوْتُ الْفَجْأَةِ أَخْذَةُ أَسِف……..ٍ سنن أبي داؤد. كتاب الجنائز

980 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ قَالَ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنَا حُسَامُ بْنُ الْمِصَكِّ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ قَال سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ نَفْسَ الْمُؤْمِنُ تَخْرُجُ رَشْحًا وَلَا أُحِبُّ مَوْتًا كَمَوْتِ الْحِمَارِ قِيلَ وَمَا مَوْتُ الْحِمَارِ قَالَ مَوْتُ الْفَجْأَةِ

سنن الترمذي. كتاب الجنائز

6558 حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ أَخْبَرَنَا أَبُو قَبِيلٍ عَنْ مَالِكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعَاذَ مِنْ سَبْعِ مَوْتَاتٍ مَوْتِ الْفَجْأَةِ وَمِنْ لَدْغِ الْحَيَّةِ وَمِنْ السَّبُعِ وَمِنْ الْحَرَقِ وَمِنْ الْغَرَقِ وَمِنْ أَنْ يَخِرَّ عَلَى شَيْءٍ أَوْ يَخِرَّ عَلَيْهِ شَيْءٌ وَمِنْ الْقَتْلِ عِنْدَ فِرَارِ الزَّحْفِ

مسند أحمد

غافل پیشہ اور فسق وفجور کے عادی بندے کے لئے اچانک کی موت باعث حسرت وافسوس اور غضب خداوندی کا اثر ہے ۔جبکہ

موت کو ہمیشہ مدنظر رکھ کر طاعات وعبادات کے ساتھ جینے والے نیک صالح مومن بندے کے لئے اچانک کی موت تحفہ ہے ،بری نہیں۔

واللہ اعلم بالصواب

شکیل منصور القاسمی

Scroll to Top