جانشین امام اہل سنت حضرت مولانا عبد العلیم فاروقی صاحب رحمہ اللہ سے ایک ملاقات

ابھی کچھ ہی دن تو ہوئے کہ چند دیوانوں کا ایک قافلہ ، جس میں ملک کے مختلف خطوں کے افراد شریک تھے، سہارنپور ، رائے پور، گنگوہ ، تھانہ بھون ، نانوتہ اور دیوبند میں موجود نوابغ روزگار شخصیات اور زیر زمیں مستور زمانے کی یادگار ہستیوں کے آستانے کی خاک چھانتے ہوئے لکھنؤ وارد ہوا ، لکھنؤ میں جن عظیم ہستیوں کی قدم بوسی سے ہمیں سرفراز ہونا تھا، ان میں سر فہرست اہل سنت کے ترجمان ، امام اہل سنت حضرت مولانا عبدالشکور فاروقی کے جانشیں ، قلوب انسانی میں حضرات صحابہ کی محبت کی شمع روشن کرنے والی شخصیت حضرت مولانا عبد العلیم فاروقی کا اسم گرامی تھا، راستے ہی میں حضرت کے صاحزادے کے ذریعے ہمیں معلوم ہوا کہ حضرت کی طبیعت علیل چل رہی ہے ، فہمینہ ہاسپٹل وکٹوریہ اسٹریٹ لکھنؤ میں زیر علاج ہیں، اطباء کی طرف سے بات چیت کرنے اور ملنے جلنے کی ممانعت ہے، یہ سن کر ہمیں شدید دھچکا لگا، بالآخر ہماری طرف سے یہ درخواست کی گئی کہ ہم بات چیت نہیں کریں گے،صرف ایک نظر حضرت کو دیکھنا چاہتے ہیں، ہماری درخواست قبول ہوئی اور تقریباً بارہ بجے ہمیں اطلاع دی گئی کہ آپ حضرات مذکورہ ہاسپٹل آکر حضرت کی زیارت سے شرف یاب ہو سکتے ہیں، ہم لوگ جلدی جلدی ہسپتال پہنچے، آکسیجن لگا ہوا تھا، اشارے سے حضرت نے ہمارے سلاموں کا جواب دیا، حضرت کے صاحب زادے یا کسی اور صاحب نے ہم میں سے ہرایک کا حضرت سے تعارف کروایا ، اور ہماری طرف سے دعاء کی درخواست حضرت تک پہنچادی ، جب ہم لوگ ایمرجنسی والے روم سے باہر آئے تو حضرت نے محب گرامی حضرت مفتی شکیل منصور قاسمی کو یہ کہلا بھیجا کہ” مفتی شکیل سے کہ دو کہ پہلے سے میری طبیعت اب ٹھیک ہے” ہم لوگ اسی روز لکھنؤ سے اپنے وطن کے لئے چل دئیے، محترمی جناب ڈاکٹر عزیر دستگیر صاحب اور محترمی جناب مولانا عمیر عالم دستگیر صاحب کا ٹکٹ ایک روز بعد کا تھا، اس طرح ہمارے قافلے کا یہ عارضی سفر منقطع ہوگیا، سبھی لوگ اپنے اپنے منزل پر پہنچ گئے، حضرت ترجمان اہل سنت کی یادیں آتی رہیں، مکرمی مفتی توصیف صاحب لکھنوی کے توسط سے ہمیں حضرت کی صحت کے تعلق سے خبریں موصول ہوتی رہیں، کل کی بات ہے عزیز گرامی مولانا ابو الحسن علی فاروقی زید مجید نبیرہ حضرت فاروقی صاحب نے بتایا کہ حضرت ہسپتال سے اب گھر آگئے ہیں ، الحمدللہ پہلے سے طبیعت اب بحال ہے، البتہ ضعف کا غلبہ ہے، ان شاء اللہ چند دنوں میں وہ بھی دور ہو جائے گا، ہمیں بہت حد تک حضرت کی صحت و عافیت کے تعلق سے اطمینان ہوگیا تھا، مگر آج صبح تقریبا چھ بجے ایک شخص نے” مرکزالبحوث الاسلامیہ” میں مولانا کے انتقال پر ملال کی خبر دی تو مفتی شکیل منصور صاحب قاسمی جوش عقیدت و محبت میں اس پر برہم ہوگئے، اور اس میسیج کو بحق ایڈمن ڈلیٹ کردیا، احباب کی دھڑکنیں یہی کہہ رہی تھیں کہ یا اللہ یہ خبر جھوٹی ہو، مگر “وقعت الواقعہ” کو جوش محبت و عقیدت سے کب تلک ٹالا جاسکتا تھا، بالآخر تھوڑی ہی دیر میں مطلع صاف ہوگیا، خبریں ناقابل انکار ذرائع سے آنے لگیں کہ واقعی دین مبین کا بےباک سپاہی ، صحابہ کا سچا عاشق، اہل سنت کا ترجمان ہمیشہ کے لئے اب سو چکا ہے، انا للہ وانا الیہ راجعون ،
پھر کیا تھا، ہر طرف سے حزن و ملال ، غم و صدمہ ، کرب و الم اور دکھ اور افسوس کے اظہار پر مبنی تحریریں آنی شروع ہوگئیں ، ہر کوئی محزون و رنجیدہ نظر آنے لگا، در اصل حضرت مولانا عبدالعلیم فاروقی رحمۃ اللّٰہ علیہ ایک عظیم خانوے کے عظیم الشان سپوت تھے، دینی حمیت ان کے رگ رگ میں بھری ہوئی تھی، دین کے اندر کسی طرح کی تلبیس پر ان کی غیرت ایمانی بھڑک اٹھتی تھی، اور وہ بھر پور قوت سے اس تلبیس کے مکروہ چہرے کو بے نقاب کرنے میں مصروف ہوجاتے تھے، اور جب تک اسے کھرچ کر باہر نہیں کردیتے تھے،ان کو سکون نہیں ملتا تھا، لکھنؤ جہاں بارہاں ایک مخصوص جماعت کی طرف سے ناموس صحابہ پر انگشت نمائی کی کوشش ہوتی رہی ، مولانا مرحوم بڑی حساسیت سے نگاہ جمائے رکھتے تھے، جب کبھی کسی دشنام طراز کی طرف سے کوئی لاف زنی سامنے آتی ، بلا تاخیر وہ میدان میں گود پڑتے اور اس دشمن صحابہ کا ناطقہ بند کرکے ہی دم لیتے تھے، وہ مادر علمی دارالعلوم دیوبند اور دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کے مجلس شوریٰ کے موقر رکن اور جمعیت علمائے ہند کے اہم ذمہ دار تھے، ان اداروں میں ان کے رائے کی بڑی وقعت تھی، وہ بہت شستہ زباں میں گفتگو کرتے تھے، ان کی تقریر بڑی سلیس زبان میں نہایت مؤثر اور دلپزیر ہوا کرتی تھی، دینی امور میں ذرہ برابر بھی مداہنت وہ برداشت نہیں کرتے تھے، ان کے انتقال سے ہندستانی مسلمانوں کی دینی قیادت کا ایک اہم‌ستون منہدم ہوگیا، اللہ تعالی انھیں کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے، ان کے قبر کو جنت کی کیاری بنادے، ان کے جملہ پسماندگان کو صبرجمیل عطا فرمائے اور ملت اسلامیہ کو ان کا بدل عطاء فرمائے، آمین یارب العالمین (جاری )

شکیل منصور القاسمی

Scroll to Top