بدلنا ہے تو دل بدلو!

امن کی امیدوں اور خوشحالی کی تمنائوں کے ساتھ دنیا بھر میں عیسوی نئے سال کا استقبال ہوا۔

ہمارے ملک میں سال 2016 کے ختم ہونے میں لگ بھگ تین گھنٹے باقی ہیں۔آسمان پہ رنگ ونور کی برسات ہے۔آتش بازی کی جارہی یے۔منچلے سڑکوں پہ نکل کے رقص کناں ہیں۔مرد وخواتین کاروں ،موٹر سائیکلوں اور پیادہ پائوں سڑکوں پہ نکل آئے ہیں۔جشن کا ماحول ہے۔سال نو کی آمد پہ پورا شہر پٹاخوں اور ہوائی فائرنگ کی آواز سے دہل رہا ہے۔کان پڑے آواز سنائی نہیں دیتی۔

حالانکہ سیانے جانتے ہیں کہ رات ودن کے بدلنے سے،ستاروں اور سیاروں کے اپنے محور کے گرد چکر لگانے سے ، ماہ وسال کے بدلنے ، کسی کے گذرنے یا کسی کے آنے سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا ۔

فرق پڑتا ہے تو اس سے پڑتا ہے کہ گذرنے والا سال ہمیں کیا دے جارہا ہے ؟ اور آنے والا سال ہمارے لئے کیا لارہا ہے ؟؟؟ ۔۔اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ گذرنے والے سال میں انسانوں کی سوچ اور اپروج میں کیا تبدیلی آئی؟ اور آنے والے سال میں ان کے زاویہ نگاہ میں تبدیلی کے کیا اور کتنے امکانات ہیں ؟؟

سال 2016 سے ملنے والی سوغاتوں میں ہمیں واضح طور پہ نظر آتا ہے کہ اس سال میں دنیا پہلے سے کہیں بڑھکر بدامنی کا شکار ہوئی۔بالخصوص عالم اسلام پہلے سے کہیں بڑھ کر قتل،غارت ،انتشار وخلفشار کی آماجگاہ بن گیا۔عالمی امن کے اجارہ داروں نے عالمی سیاست اور عالمی غلبہ کے حصول کے لئے جگہ جگہ جو الائو روشن کئے تھے۔انتشار وخلفشار کی جو آگ لگائی تھی یہ سوچ کر کہ اس کی آنچ اور حدت ان تک نہ پہونچے گی !مگر وہ آنچ 2016 میں مغربی ممالک میں دہشت گردی کی واردات کی شکل میں زور وقوت کے ساتھ پہونچی! اور پوری شدت وحدت کے ساتھ پہونچی ۔

سقوط حلب کی شکل میں معصوم بچوں، خواتین اور نہتے نوجوانوں کا جو سفاکانہ قتل عام ہوا ہے شاید چنگیز وہلاکو کی روحیں بھی اس کے سامنے شرمندہ ہوجائیں ۔

برما کے مسلمانوں کو 2016 میں جس طرح چن چن کے سفاکانہ اور پوری درندگی کے ساتھ قتل کیا گیا وہ امن کے ٹھیکیداروں اور بالخصوص عالم اسلام کے عیش کوش حکمرانوں کے لئے سوہان روح ہے۔ترکی میں ایک روسی سفارتکار کے قتل پہ سیخ پا ہوجانے اور مذمتی بیان جاری کردینے والے حکمرانوں کی زبانیں برما اور حلب کے مسلمانوں کی نسل کشی پہ کنگ ہو گئیں ! یہ بے غیرتی اور ایسا شرمناک دوہرا معیار 2016 کا انتہائی گھنائونا رول رہا۔

2016 کے دوران خوف و دہشت کے عالمی منظر نامہ میں مادر وطن ہندوستان میں مودی جی کی طرف سے نوٹ بندی کی شکل میں غریبوں ،محنت کشوں اور مزدوروں

کے پیٹ پہ جس مہذب انداز میں لات مارا گیا اور جس چالاکی اور کمال عیاری کے ساتھ غریب طبقہ کو مرنے جینے پہ مجبور کردیا گیا شاید اس کی ٹیس نئے سال کے آخر تک بھی نہ ختم ہوسکے! !

اس شاطرانہ و ظالمانہ فیصلہ کی زد میں سینکڑوں معصوم جانیں آگئیں ،لوگوں کی ملازمتیں ، نوکریاں اور چھوٹی موٹی تجارتیں بند ہوگئیں لیکن کبر ونخوت ،طاقت وحکومت کے نشہ میں چور “مغل اعظم ” کو کچھ بھی احساس نہیں !! حالات کو قابو کرنے اور جلد کوئی مثبت حل نکالنے میں کوئی بھی سنجیدہ کوشش دور دور تک نظر نہیں آتی!

امریکہ میں حیرت انگیز طریقہ سے ایک ایسے حکمراں وصدر کا انتخاب ہوچکا ہے جس کے انگ انگ میں بغض اسلام بھرا ہوا ہے ۔اب یہ نیا صدر اپنے لے پالک “اسرائیل ” کا سینہ علی الاعلان تھپتھپا رہا ہے ۔

اب دیکھنا ہے کہ 2017 کا منظر نامہ کتنا مہیب اور بھیانک ہوتا ہے !

کسی نے بڑے پتے کی بات کہی ہے

نتیجہ پہر وہی ہوگا سنا ہے سال بدلے گا

پرندے پہر وہی ہونگے شکاری جال بدلے گا

بدلنا ہے تو دن بدلو بدلتے کیوں ہو ہندسے کو

مہینے پہر وہی ہونگے سنا ہے سال بدلے گا

وہی حاکم وہی غربت وہی قاتل وہی ظالم

بتائو کتنے سالوں میں ہمارا حال بدلے گا ؟؟؟

شکیل منصور القاسمی

Scroll to Top