تراویح کی رکعات کے سلسلے میں تیسرا موقف وتر سمیت ۱۱ یا ۱۳ رکعات کا ہے ، اس موقف کی بنیاد حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی یہ روایات ہیں :
عن عائشة رضي الله عنها ، قالت: «كان النبي صلى الله عليه وسلم يصلي من الليل ثلاث عشرة ركعة منها الوِتر، وركعتا الفجر».أخرجه البخاري (1138)، ومسلم (764)
عائشہ رضی الله عنها سے روایت ہے کہ نبی ﷺ رات میں تیرہ رکعت پڑھا کرتے تھے جس میں وتر اور فجر کی دو رکعتیں بھی شامل ہوتی تھیں۔
حضرت عائشہ رضی الله عنها خبر دے رہی ہیں کہ نبی ﷺ ہمیشہ رات میں تیرہ رکعت پڑھا کرتے تھے جس میں وتر بھی ہوتی تھی اور دوگانہ فجر بھی ہوتی تھی ، چاہے رمضان ہو، یا غیر رمضان حضور کا یہ معمول تھا ، اور اسی طرح فجر کی دو رکعتوں کی مداومت کیا کرتے تھے،
نبی ﷺ رات میں کبھی تیرہ رکعت پڑھا کرتے تھے اور کبھی گیارہ رکعت پڑھا کرتے تھے۔
جیساکہ بخاری ہی میں حضرت عائشہ کی روایت ہے :
ما كان رَسولُ اللهِ صلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ يَزيدُ في رَمضانَ ولا في غَيرِه على إحدَى عَشْرةَ ركعةً ( صحيح البخاري 1147).
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا رمضان میں حضور کی نماز کی کیفیات کے بارے میں حضرت أبو سَلَمةَ بنُ عبدِ الرَّحمنِ تابعی کے ایک سوال کے جواب میں فرماتی ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم رمضان اور غیر رمضان میں گیارہ رکعات سے زیادہ نہیں پڑھا کرتے تھے۔
فجر کی دو رکعت سنت شمار کریں تو تعداد تیرہ ہوجائے گی ، ورنہ گیارہ رہے گی ۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی یہ دونوں روایتیں تراویح نہیں ؛ بلکہ تہجد سے متعلق ہیں ، اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تہجد کی نماز کی کیفیات بتارہی ہیں، تعداد رکعات بتانا مقصود نہیں ہے ۔
جمہور علماء کے نزدیک تہجد اور تراویح دو الگ الگ نمازیں ہیں ۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح بخاری میں نمازِ تہجد کا ذکر (کتاب التہجد) میں؛ جبکہ نماز تراویح کو (کتاب صلاة التراویح) میں ذکر کیا ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا کہ دونوں نمازیں الگ الگ ہیں، اگر دونوں ایک ہی نماز ہوتی تو امام بخاری کو دو الگ الگ باب باندھنے کی چنداں ضرورت نہ تھی ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی مذکورہ حدیث انہوں نے کتاب التہجد میں ذکر فرماکر ثابت کردیا کہ اس حدیث کا تعلق تہجد کی نماز سے ہے۔
غور کرنے کی بات تو یہ بھی ہے کہ تراویح تو صرف رمضان میں پڑھی جاتی ہے، اور اِس حدیث میں ایسی نماز کا ذکر ہے جو رمضان کے علاوہ ایام میں بھی پڑھی جاتی ہے۔
پھر اس حدیث میں چار چار لمبی رکعات پڑھنے اور وتر سے قبل سونے کا بھی ذکر ہے ، آٹھ رکعات تراویح کے قائلین تراویح دو دو رکعت کرکے اور وتر ، بعدِ تراویح، سونے سے قبل ہی کیوں پڑھ لیتے ہیں ؟ عمل بالحدیث کا یہ کیسا منصفانہ طریقہ ہے کہ ایک ہی حدیث سے تعداد رکعات کی من پسند بات تو لے لی جائے اور اسی حدیث کے بقیہ اجزاء بلا عمل چھوڑ دیئے جائیں !
بالفرض اگر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی مذکورہ روایت کا تعلق تراویح کی نماز سے ہی ہو تو بھلا حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے زمانے میں ایک مستقل امام کے پیچھے جب باضابطہ جماعت کے ساتھ ۲۰ رکعت تراویح کا اہتمام وانتظام ہوا تو کسی ایک بھی صحابی رسول نے اِس پر کوئی تنقید کیوں نہیں کی؟
اگر ۱۱ یا ۱۳ رکعت والی حدیث تراویح کی تعداد کے متعلق ہوتی تو حضرت عمر فاروق اور صحابہٴ کرام رضی اللہ عنہم کو کیسے ہمت ہوتی کہ وہ ۸ رکعت تراویح کی جگہ ۲۰ رکعت تراویح شروع کردیتے ؟
امام مسلم نے صحیح مسلم 154/2 میں ، امام ابوداوٴد سجستانی نے اپنی سنن 196/1میں ,امام ترمذی نے اپنی جامع 58/1 میں , امام نسائی نے اپنی سنن 154/1میں , اور امام مالک نے اپنی موطا صفحہ 42 میں اس حدیث کو تہجد کے باب میں ذکر کیا ہے نہ کہ تراویح کے باب میں ۔
بلکہ علامہ شمس الدین کرمانی نے تو تصریح فرمادی کہ یہ حدیث تہجد کے بارے میں ہے اور حضرت ابوسلمہ کا سوال اور حضرت عائشہ کا جواب تہجد کے متعلق تھا۔ (الکوکب الدراری شرح صحیح البخاری 156/1)
حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث تہجد کی نماز پر محمول ہے جو رمضان اور غیر رمضان میں برابر تھی۔ (مجموعہ فتاوی عزیزی ص ۱۲۵)
لہٰذا واضح ہے کہ گیارہ اور تیرہ رکعات والی احادیث سے تراویح کی رکعات پہ استدلال کرنا تام نہیں ہے ، در اصل ان روایات کا تعلق نماز تہجد سے ہے تراویح سے نہیں ، بیس رکعت تراویح والی صریح اور واضح احادیث جنہیں ائمہ اربعہ اور جمہور علماء نے اختیار کیا ہے اور جن پر چودہ سو سالوں سے شرقً وغرباً عمل ہوتا چلا آرہا ہے وہ تعداد رکعات تراویح کے بارے میں زیادہ قابل اتّباع ہیں ۔
ہر چند کہ امام بیہقی ، علامہ عدوی مالکی اور بعض دیگر علماء نے تطبیق کی ایک شکل یہ بتائی ہے کہ گیارہ رکعات والی روایت ابتدائی دور کی ہے ، بعد میں توسیع ہوکے تعداد بیس رکعات کو پہنچ گئی ۔
بیہقی اپنی سنن میں فرماتے ہیں :
” وَيُمْكِنُ الْجَمْعُ بَيْنَ الرِّوَايَتَيْنِ، فَإِنَّهُمْ كَانُوا يَقُومُونَ بِإِحْدَى عَشْرَةَ، ثُمَّ كَانُوا يَقُومُونَ بِعِشْرِينَ وَيُوتِرُونَ بِثَلَاثٍ، وَاللهُ أَعْلَمُ(السنن الكبرى للبيهقي 699/2، رقم الحديث 4618)
علامہ عدوی مالکی لکھتے ہیں :
وَيُؤْخَذُ مِمَّا تَقَدَّمَ الْجَوَابُ بِأَنَّ الْإِحْدَى عَشْرَةَ كَانَتْ مَبْدَأَ الْأَمْرِ، ثُمَّ انْتَقَلَ إلَى الْعِشْرِينَ وَلِذَلِكَ قَالَ ابْنُ حَبِيبٍ: رَجَعَ عُمَرُ إلَى ثَلَاثَةٍ وَعِشْرِينَ رَكْعَةً(حاشية العدوي على كفاية الطالب الرباني 462/1)
ابو اسامہ القاسمی
بیگوسرائے