نجومِ ہدایت حضرات صحابہ کرام کا تقدس

بلا تفریق ، رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کے سارے صحابہ آسمانِ ہدایت کے روشن ستارے ہیں ،ان کے ہر ہر فرد کی اجتماعی وانفرادی کردار و اعمال فرزندانِ توحید کے لئے تا قیامت مشعل راہ ہے ۔
ان کے عقائد و ایمان ، دیانت وتقوی ،صدق واخلاص کی سند خود رب العالمین نے قرآن پاک میں دی ہے، وہ انبیاء کی طرح اگرچہ معصوم تو نہیں تھے؛
لیکن بر بنائے بشریت اجتہادی واضطراری جو غلطیاں ان سے ہوئیں ، رب کریم نے سب پہ معافی کا قلم پھیر کر علی الاطلاق سب کو اپنی رضا کا پروانہ “رضى الله عنهم ” عطا کردیا۔
برگزیدہ ،پاکباز ،پاک طینت ،وفا شعار وجان نثار یہی وہ جماعت ہے جن کے ذریعہ ہم تک قرآن وسنت اور نبی کریم کی سیرت طیبہ پہونچی ،انہی کے ذریعہ اسلام کا تعارف ہوا،انہی کے سینوں میں کلام الہی محفوظ ہوکر ہم تک پہونچا ،اگر تنقید وتنقیص اور حرف گیری کے ذریعہ انہیں غیر معتبر قرار دیدیا گیا تو پھر تو اسلام کی عمارت ہی منہدم ہوجائے گی ، نہ قرآن معتبر بچے گا نہ سنت طیبہ پہ اعتبار ووثوق باقی رہے گا !
اللہ نے ان کے ایمان کی پختگی ،اعمال کے صلاح،
اتباع سنت ، تقوی وطہارت کی سند دی ہے ، پھر نبی کریم کی زبانی انہیں چراغِ راہ اور نجومِ ہدایت قرار دے کر ان کی تعریف و توصیف کی گئی ہے۔
اسی لئے امت مسلمہ کا اجماع ہے کہ صحابہ خواہ چھوٹے ہوں یا بڑے ! سب کے سب ثقہ ،عادل ، قابل اعتبار و استناد ہیں ، ان کی ثقاہت و عدالت پہ نصوص قطعیہ موجود ہیں ، بلا چوں وچرا ان کی ثقاہت کو ماننا ضروری ہے۔ کوئی ایک صحابی بھی فسق سے متصف نہیں ہوسکتا ،ان کے آپسی اختلافات اور بشری خطائوں پہ کفّ لسان کرنا بہ اجماع امت واجب و ضروری ہے۔
روایتِ حدیث ہی کی طرح عام معاملاتِ زندگی میں بھی ان کی عدالت کی تفتیش یا ان کی کسی خبر پہ گرفت جائز نہیں ہے ۔
ابتدا سے ہی روافض ،شیعہ امامیہ اور سبائیوں نے بعض اصحاب رسول کے خلاف اپنے دل کی کالک سے صفحاتِ تاریخ سیاہ کئے ہیں، غضب تو یہ ہوا کہ پچھلے چند سالوں سے لکھنوء کے ایک مشہور حسینی نام نہاد عالم دین نے بھی متواتر اصحاب رسول کی تنقیص تجریح وتفسیق کو اپنا شیوہ بناکر یاوہ گوئی شروع کردی ہے اور وہی سب گھسی پٹی بے بنیاد اور پھس پھسی باتیں دہرائی ہیں جو شیعہ صدیوں سے کہتے چلے آئے ہیں ۔
ملک عزیز میں یہ ایک نیا فتنہ سر ابھارا ہے ، اس کی سنگینی کا ہمیں بروقت ادراک کرنا ہوگا ،یہ فتنہ محض ایک شخص یا ایک فرد کا نہیں، بلکہ یہ پورے امت کے فکری قلعے پر حملہ ہے۔ لہٰذا اس کا مقابلہ بھی اجتماعی سطح پر ہونا چاہیے۔ یہ وقت خاموشی یا غفلت کا نہیں، بلکہ اقدام اور بیداری کا ہے۔ گمراہی کا سیلاب بڑھنے سے پہلے بند باندھنا، اہلِ ایمان کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ ادارہ جاتی خول سے باہر نکل کر تمام اہلِ سنت کو اتفاق ویکجہتی اور جرأت وقوت کے ساتھ اس فتنے کا مقابلہ کرنے کی سخت ضرورت ہے ، اللہ تعالی ہمیں بلاامتیاز وتفریق اس کی توفیق مرحمت فرمائے
اور صحابہ کرام کے تقدس و مقام کو قیامت تک محفوظ و مامون رکھے۔
شکیل منصور القاسمی
مرکز البحوث الإسلامية العالمي
۲ ربیع الاول ١٤٤٧ہجری

Scroll to Top