اے ٹی ایم کارڈ ہولڈر صاحب نصاب مسافر کے لئے زکوٰۃ لینے کا حکم ؟

سوال :
السَـــــــلاَمُ عَلَيــْــكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُہ
حضرت !
وجوبِ زکات کے سلسلے میں پہلے یہ ہوتا تھا کہ اگر کوئی مسافر ہے چاہے وہ اپنے وطن میں مالدار ہو اور سفر میں بقدر نصاب مال نہ ہو تو اس پر زکات واجب نہیں بلکہ وہ خود لے سکتا ہے
لیکن آج کل تو آدمی سفر میں اے ٹی ایم کارڈ ساتھ لے جاتا ہے یا موبائل میں فون پے وغیرہ پر اس کو تصرف حاصل ہوتا ہے اور اکاؤنٹ میں نصاب کے بقدر مال ہے تو کیا اب اس طرح کے مسافر کے لیے حکم بدل جائے گا یا پرانا حکم ہی باقی رہے گا ؟
بعض دفعہ سفر میں آۓ ٹی یم مشین موجود نہیں ہوتی یا موبائل میں نیٹ ورک نہیں ہوتا تو پھر کیا حکم ہوگا ؟
مفتی شاہجہاں قاسمی مدن پلی

الجواب وباللہ التوفیق
صاحب نصاب مسافر کے لیے قدر ضرورت اخذ زکوٰۃ کی گنجائش اس علت کی بنیاد پر ہے کہ مال اس کے دست رس سے باہر یعنی اس کے وطن میں ہوتا ہے
اگر جدید ڈیجیٹل زمانے میں وہ موبائل بینکنگ استعمال کرتا ہو یا اے ٹی ایم کارڈ ساتھ ہو اور بروقت اس سے مالی استفادہ ممکن ہو تو اس کا مال اس کے قبضہ میں ہی سمجھا جائے گا
اب انتفاے علت کی بناء پر اس کے لئے اخذ زکاۃ جائز نہیں ہے
الا یہ کہ وہ مستحق زکوٰۃ ہو
نیٹ ورک کی کمزوری عارضی چیز ہے ، مالی دست رس کے لئے مانع نہیں ہے
البحر الرائق شرح كنز الدقائق (2/ 260) میں ہے :
“(قوله: وابن السبيل) هو المنقطع عن ماله لبعده عنه والسبيل الطريق فكل من يكون مسافرًا يسمى ابن السبيل، وهو غني بمكانه حتى تجب الزكاة في ماله، ويؤمر بالأداء إذا وصلت إليه يده، وهو فقير يدا حتى تصرف إليه الصدقة في الحال لحاجته، كذا في الكافي.”
(کتاب الزکاۃ،باب مصرف الزکاۃ، ط:دارالکتاب الاسلامی بیروت)
ہندیہ میں ہے :
“ومنها ابن السبیل: وهو الغریب المنقطع عن ماله، کذا في البدائع، جاز الأخذ من الزکوۃ قدر حاجته ولم یحل له أن یأخذ أکثر من حاجته”۔(الفتاوی الھندیه، كتاب الزكوة، الباب السابع في المصارف، ج:1،ص:188)
واللہ اعلم بالصواب
شکیل منصور القاسمی
اتوار 21؍ رجب المرجب 1447ھ 11؍ جنوری2026ء

Scroll to Top