فقہ اسلامی کی وسیع و عریض تاریخ میں اگر کسی فقہی مکتبِ فکر کو فکری پختگی، فقہی توازن اور عملی وسعت کے اعتبار سے امتیاز حاصل ہے تو وہ بلا شبہ فقہِ حنفی ہے، جس کی بنیاد امام اعظم ابو حنیفہ نعمان بن ثابت رحمہ اللہ نے رکھی۔فقہ حنفی نصوص کے ظاہری مفاہیم تک محدود نہیں ہے؛ بلکہ شریعت کے مقاصد، انسانی مصالح اور اجتماعی زندگی کی پیچیدگیوں کو اپنے دامن میں سموئے ہوئے ہے، اسی جامعیت نے اسے صدیوں کے نشیب و فراز میں زندہ، متحرک اور قابل تطبیق بناے رکھا ہے۔
حضرت الامام کے فقہی منہج کی بیشمار خصوصیات میں ایک نہایت نمایاں خصوصیت فقہِ تقدیری ہے، فقہ تقدیری ایک طرز فکر اور ایک طریق اجتہاد ہے ، جو مسائل ابھی بالفعل پیش نہ آئے ہوں، صرف ممکن الوقوع ہوں ، ان کے احکام بھی پیش بندی کے طور پر مستنبط کردینا فقہی بالیدگی کی نشانی ہے ، نصوص شرع میں اس کاوش کی دلیل وثبوت موجود ہے ، تمام مذاہب فقہیہ میں اس کی عملی جھلکیاں اور نظائر موجود ہیں جنہیں ہم ایک مستقل عنوان کے تحت مع نظائر وامثلہ بالتفصیل تحریر کریں گے ان شاء اللہ۔
فقہ تقدیری نے اسلامی فقہ میں مسائل کے حل کی لچک، اجتہادی وسعت اور پیش بندی کی صلاحیت فراہم کی ، کوئی بھی فقہی مذہب اس جدوجہد سے خالی نہیں ہے ، البتہ فقہ حنفی میں اسے وسعت دی گئی ، امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی علمی وتحقیقی شوری اپنے زیر بحث مسائل میں صرف انہی مسائل میں غور وخوض پر اکتفا نہیں کرتی جو بالفعل پیش آ چکے تھے، بلکہ ان امور پر بھی غور و فکر کرکے احکام قائم کرتی جو آئندہ پیش آسکتے تھے؛ تاکہ شریعت کے اصول کی وسعت، لچک اور داخلی ہم آہنگی واضح ہو سکے۔ کیونکہ جب احکام کی علتیں متعین کی جاتی ہیں تو ان کی تطبیق کے لئے فرضی صورتوں کا قائم کرنا ناگزیر ہو جاتا ہے۔ اسی کے نتیجے میں فقہ کو ایک جامد جوابی علم بننے کے بجائے ایک پیش بینی رکھنے والا متغیر ، قابل تطبیق ضابطۂ حیات بننے کا زریں موقع ملا۔
حضرت الامام ابو حنیفہؒ نے اپنے فقہی اصول نہایت صراحت اور دیانت کے ساتھ خود ہی بیان فرمادیئے ہیں، جن کے مطابق احکامِ شرعیہ کا پہلا اور سب سے اعلیٰ ماخذ کتاب اللہ ہے۔ اگر وہاں صراحت نہ ملے تو سنتِ رسول ﷺ کی طرف رجوع کیا جاتا ہے،اور اگر قرآن و سنت دونوں میں کسی مسئلے کی تصریح موجود نہ ہو تو اقوالِ صحابہ کرامؓ کو بنیاد بنایا جاتا ہے۔ صحابہؓ کے اقوال میں امام صاحب انتخاب کا حق رکھتے تھے، مگر اس دائرے سے باہر نکل کر کسی اور کی رائے کو اختیار نہیں کرتے تھے۔ البتہ تابعینِ عظام تک جب بات پہنچتی تو ان کے بارے میں ان کا موقف یہ تھا کہ چونکہ وہ بھی مجتہد تھے، اس لیے جیسے انہوں نے اجتہاد کیا، ویسے ہی وہ خود بھی اجتہاد کے حق دار ہیں۔
آپ کا فقہی مزاج نظری نہیں بلکہ گہرا عملی بھی تھا، آپ انسانی معاشرے، اس کے عرف، اس کے معاملات اور اس کے روزمرہ مسائل کو باریک بینی سے دیکھتے تھے، آپ کے نزدیک شریعت کا مقصد صرف احکام کا نفاذ ہی نہیں بلکہ لوگوں کے لیے آسانی، عدل اور مصلحت کا قیام ہے؛ اسی لئے آپ اصولاً قیاس پر عمل کرتے، لیکن اگر قیاس کسی ایسے نتیجے تک پہنچتا جو شریعت کی روح یا انسانی فطرت کے خلاف محسوس ہوتا، تو آپ استحسان کو اختیار کرتے اور اگر وہاں بھی راہ نہ ملتی تو مسلمانوں کے رائج تعامل اور عرفِ عام کو بنیاد بناتے۔ اس طرح آپ کا فقہی نظام جامد نہیں بلکہ زندہ اور متحرک بنا۔
حدیث کے باب میں آپ نہایت محتاط اور دقیق النظر تھے، آپ ناسخ و منسوخ کی تحقیق میں غیر معمولی احتیاط برتتے اور کسی حدیث پر اس وقت تک عمل نہ کرتے جب تک اس کا ثبوت آپ کے نزدیک مضبوط نہ ہو جاتا۔ کوفہ میں حدیث گھڑنے کے فتنوں کے باعث آپ راوی کے ضبط کے معاملے میں دیگر ائمہ کے بہ نسبت سخت تھے، اور تعارض کی صورت میں فقیہ راوی کو غیر فقیہ پر ترجیح دیتے تھے ، اس شدت احتیاط کے باوجود یہ کہنا کہ آپ حدیث کے مخالف تھے، صریح اور عظیم بہتان ہے۔
خود آپ کا قول ہے کہ جو بات رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہو، وہ ان کے نزدیک سر آنکھوں پر ہے اور اس کی مخالفت کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
حضرت الامام کے نزدیک فقہی دلائل کی ترتیب یہ ہے:
قرآن، سنت، اقوالِ صحابہ، اجماع، قیاس، استحسان اور عرف۔
آپ اس بات کے قائل تھے کہ سنت قرآن کی شارح اور مُبیِّن ہے، تاہم آپ کے نزدیک قرآن کی دلالت زیادہ تر واضح اور قطعی ہوتی ہے، اس لیے اس کے بیان کی ضرورت نسبتاً کم پیش آتی ہے۔ اسی اصول کے تحت آپ قرآن سے ثابت قطعی حکم کو فرض اور ظنی حدیث سے ثابت حکم کو واجب کہتے ہیں۔ اسی طرح قرآن سے ثابت ممانعت کو حرام اور ظنی حدیث سے ثابت ممانعت کو مکروہِ تحریمی قرار دیتے ہیں۔
اس تفریق کی بنیاد یہ ہے کہ ثبوت اور دلالت کے اعتبار سے قرآن کا درجہ سنتِ ظنیہ سے اعلیٰ ہے، حضرت الامام کی یہ تفریق شریعت کے مصادر کے مراتب کو ملحوظ رکھنے پر مبنی ہے۔
قیاس کے بارے میں حضرت الامام پر یہ الزام لگایا گیا کہ آپ اسے نص پر مقدم رکھتے ہیں، حالانکہ یہ الزام ان کے صریح اقوال اور عملی منہج کے سراسر خلاف ہے، آپ خود واضح الفاظ میں فرماتے ہیں کہ نص کے بعد قیاس کی کوئی حاجت باقی نہیں رہتی، قیاس صرف وہاں کارفرما ہوتا ہے جہاں نص خاموش ہو۔ بلکہ آپ تو قیاسِ قطعی کو ہی معتبر سمجھتے تھے اور محض ظنی قیاس کو حدیث کے مقابلے میں پیش نہیں کرتے تھے۔
خبرِ واحد کے باب میں بھی آپ کا موقف نہایت متوازن ہے۔آپ احادیثِ متواترہ کو بلا تردد حجت مانتے تھے، اور حدیثِ مشہور کو بھی یقین کے قریب درجہ دیتے تھے، حتیٰ کہ اس کے ذریعے قرآن کی تخصیص اور بعض صورتوں میں مشروط زیادتی کو بھی جائز سمجھتے تھے۔
خبرِ واحد کو آپ اس وقت قبول کرتے تھے جب وہ شریعت کے کسی قطعی اور کلی اصول سے متصادم نہ ہو۔ اگر تعارض کی صورت میں تطبیق کی کوئی گنجائش باقی ہو تو خبر واحد کو قبول کر لیتے، اور اگر تطبیق ممکن نہ رہے تو ایسی روایت کو شاذ قرار دیتے۔
استحسان؛ جو امام کرخی کی تعریف کے مطابق کسی قوی تر وجہ کی بنا پر عام قاعدے سے عدول کا نام ہے، فقہِ حنفی کی روح ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ شریعت کو صرف منطقی سانچوں میں مقید نہ کر دیا جائے ؛ بلکہ اس کی روح، مقصد اور حکمت کو پیشِ نظر رکھا جائے۔
اسی طرح عرفِ عام کو بھی ثانوی اصولِ تشریع کے بطور حنفی فقہ میں خاص مقام حاصل ہے، یہاں تک کہ عرف سے ثابت حکم کو شرعی دلیل کا درجہ دیا جاتا ہے، بشرطیکہ وہ کسی نص کے خلاف نہ ہو۔
فقہ حنفی کے بانی حضرت امام ابوحنیفہ نعمان بن ثابت کوفی ہیں جنہوں نے ۸۰ ہجری کے آغاز سے ۱۵۰ ہجری تک عظیم شورائی نظامِ بحث ونظر کے تحت اپنی متنوع فقہی خدمات انجام دیں۔ یہ مکتب فقہ بنیادی طور پر عراق (خصوصاً کوفہ) میں تشکیل پایا ،جہاں صحابہ و تابعین کی علمی روایت، اجتہاد، اور قیاس و استحسان کے ذریعے فقہ کا ارتقا ہوا۔
فقہ حنفی کی فقہی روایات صرف حضرت الامام ابو حنیفہ کے الفاظ تک محدود نہیں ہیں، بلکہ آپ تلامذہ (مثلاً امام ابو یوسف، ومحمد بن الحسن الشیبانی وغیرھم) نے آپ کی تعلیمات کو منظم انداز میں مرتب کیا، تشریعی اصول و ضابطے وضع کئے، اور فقہ کو علمی موضوع کے طور پر پیش کیا۔
علامہ ابن خلدون مالکی کے مطابق حضرت الامام کے تلامذہ کی فقہی کتابیں پڑھ کر بعد کے فقہاء ، ائمہ مذاہب بن گئے ، وہ اپنے مقدمے میں لکھتے ہیں:
إن الشافعي رحل إلى العراق، ولقى أصحاب أبي حنيفة،
وأخذ عنهم، ومزج طريقة أهل الحجاز بطريقة أهل العراق،
واختص بمذهب، وكذلك أحمد بن حنبل أخذ عن أصحاب أبي حنيفة مع وفور بضاعته في الحديث، فاختص بمذهب “(تاریخ ابن خلدون 566/1)
یعنی امام شافعیؒ نے عراق کا سفر کیا، وہاں امام ابو حنیفہؒ کے شاگردوں سے علمی استفادہ کیا، اور اہلِ حجاز کے منہج کو اہلِ عراق کے طریقِ استدلال کے ساتھ ہم آہنگ کر کے اور باہم ملاکر ایک مستقل فقہی مکتب کی بنیاد رکھی۔ اسی طرح امام احمد بن حنبلؒ نے، حدیث میں گہری مہارت کے باوجود، حنفی مکتب کے اصحاب سے فیض پایا اور بالآخر ایک جداگانہ فقہی مسلک کی تشکیل کی)
پھر بعد کے قرون میں مکتبِ حنفی کی جغرافیائی و ثقافتی توسیع کے ساتھ ہمارے فقہاء احناف نے فقہ حنفی کی جامع کتب، شرحیں اور مختصرات وکتب فتاوی مرتب کیے، جن کے ذریعے فقہ ایک منظم قانونی نظام کی صورت اختیار کر گئی اور عباسی و عثمانی ادوار میں عدالتی و معاشرتی نظام کا بنیادی حوالہ بنی۔
مذہب حنفی اسلامی فقہی ورثے کا ایک بنیادی ستون ہے، جس نے عبادات کے ساتھ ساتھ معاملاتِ زندگی، معاشرت اور قانون کے میدان میں اجتہاد و استدلال کی وسعت پیدا کی، اسی بنا پر یہ آج بھی متعدد مسلم خطوں میں غالب فقہی مکتب کی حیثیت رکھتا ہے۔
اس میں نصوصِ شرعیہ کی تعظیم، عقلِ سلیم کی رہنمائی، انسانی مصالح کی رعایت اور عرفِ زمانہ کی تطبیق کو ایک حسین توازن میں جمع کیا گیا ہے۔ اور یہی وہ اوصاف ہیں جنہوں نے اسے صدیوں تک امت کی عملی رہنمائی کا سرچشمہ بنائے رکھا، اور یہی اس کی ہمہ گیری، دوام اور اثر پذیری کا اصل راز ہے۔
(ناچیز کی کتاب اجتہاد وقیاس سے ماخوذ ، شکیل)۔
شکیل منصور القاسمی
(اتوار 21؍ رجب المرجب 1447ھ 11؍ جنوری2026ء)