ایک زندہ ومتحرک معمار قوم کی رحلت(ڈاکٹر محمد منظور عالم صاحب کی یاد میں)

بقلم: شکیل منصور القاسمی

آج ملتِ اسلامیۂ ہندیہ کی فضا پر ایک گہرا، پُرہیبت سناٹا طاری ہے، فکر و دانش کا ایک آفتاب عالمتاب افق حیات سے روپوش ہوگیا، علم و تحقیق کی وہ روشنی جو خاموشی سے راستے متعین کرتی تھی، وہ بصیرت جو شور و غوغا سے بے نیاز ہوکر سمتوں کا تعین کرتی تھی، آج نگاہوں سے اوجھل ہے۔ ڈاکٹر محمد منظور عالم صاحب کی رحلت ایک فرد کی جدائی نہیں، بلکہ ایک پورے عہد کی خاموشی، ایک فکری روایت کا توقف اور ایک زندہ، ومتحرک ادارہ ساز ذہن کا غروب ہے۔
۹ اکتوبر ۱۹۴۵ کو صوبۂ بہار کے مردم خیز ضلع مدھوبنی کے گاؤں رانی پور میں جنم لینے والی یہ درخشاں ہستی سادگی کی مٹی سے اٹھ کر آفاقی فکر کی بلندیوں تک پہنچی، سرزمینِ بہار نے انہیں وقار، استقامت اور خاموش، مسلسل محنت کا جوہر عطا کیا، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے معاشیات میں پی ایچ ڈی نے ان کے فکری سفر کو علمی استحکام بخشا اور جدید معاشی مباحث کو اسلامی اقدار کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی راہیں وا ہوئیں
ڈاکٹر صاحب ان نادر شخصیات میں سے تھے جن کی عظمت ان کے سکوت میں بولتی تھی، نہ انہیں شہرت کی تمنا تھی، نہ نمائش کا شوق، بس کام، تسلسل اور اخلاص ان کا شعار تھا، وہ پسِ منظر میں رہ کر ادارے تعمیر کرتے، فکری بنیادیں مضبوط کرتے اور خود کو منظرنامے سے اوجھل رکھتے۔علم و اہلِ علم، قلم و قرطاس کی خاموش آبیاری کرنا، اہلِ علم وفکر کو سہارا دینا اور ان کے حوصلے بلند کرنا ان کی زندگی کا مستقل وطیرہ تھا، آج ان کی ظاہری عدم موجودگی میں ان کے قائم کردہ ادارے ان کی ہمہ وقت موجودگی کی گواہی دے رہے ہیں۔
مجھے حیدرآباد میں قیام ( سن ۲۰۰۱ تا ۲۰۰۵)کے دوران اس مردِ دانا کو قریب سے بالمشافہ پڑھنے اور سمجھنے کا موقع ملا، سادہ اندازِ حیات، نرم لہجہ، متین گفتگو، اور آنکھوں میں مستقبل کی دور رس امیدوں کی ایک خاموش مگر روشن چمک، ان کی شخصیت کے جوہر تھے، وہ کم گو تھے، مگر جب بولتے تو صرف جملے نہیں، جہتیں عطا کرتے تھے؛ وہ بات نہیں کرتے تھے، بصیرت بانٹتے تھے۔
آل انڈیا ملی کونسل کے جنرل سیکریٹری کی حیثیت سے انہوں نے ملت کے بکھرتے شیرازے کو سمیٹنے کی ایک خاموش مگر مسلسل جدوجہد کی، انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز ان کے فکری وژن کا زندہ استعارہ ہے؛ تحقیق، تجزیہ اور معروضیت کی وہ شمع جو آج بھی پوری آب و تاب کے ساتھ روشن ہے۔
اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کے فکری خدوخال میں بھی ان کی بصیرت نمایاں نظر آتی ہے، جہاں روایت اور جدید تقاضوں کے درمیان متوازن ربط قائم کیا گیا اور جدید فضلاء مدارس کو جدید پیش آمدہ نت نئے مسائل لکھنے پڑھنے کا ذوق پروان چڑھا، وہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے تاسیسی ارکان میں بھی شامل تھے، جو ملت کے تئیں ان کی عمیق وابستگی کا روشن ثبوت ہے۔
ڈاکٹر صاحب بہترین منتظم ہونے کے ساتھ سماجی انصاف اور اقلیتی حقوق کے ایک دردمند، بے لوث داعی بھی تھے، معاشیات کے ماہر ہونے کے باوجود آپ کی نظر صرف اعداد و شمار تک محدود نہ تھی، بلکہ انسان، عدل اور اخلاق ان کی فکر کے مرکزی محور تھے۔ قرآنِ مجید کے عالمی ترجمہ کے منصوبوں سے ان کی وابستگی ان کے قلبی تعلقِ قرآن کی بین دلیل ہے۔ اور سب سے بڑھ کر، نوجوانوں کی فکری تربیت ان کا محبوب ترین مشن تھا۔وہ جانتے تھے کہ قوموں کی تقدیر نوجوان ذہنوں کی آبیاری سے رقم ہوتی ہے۔
یہ دنیا عارضی ہے، مگر کچھ لوگ وقت کی محدود سانسوں میں ابدیت کا سامان کر لیتے ہیں، ڈاکٹر محمد منظور عالم صاحب بھی انہی خوش نصیب ہستیوں میں سے تھے، وہ اپنے پیچھے ادارے، افکار اور تربیت یافتہ اذہان کی ایک ایسی امانت چھوڑ گئے ہیں جو ان کے لیے صدقۂ جاریہ ہے اور تا دیر قائم رہے گی۔
بارگاہِ رب العالمین میں دستِ دعا بلند ہے کہ:
اے اللہ! اس خاموش معمار قوم کی قبر کو نور سے بھر دے، ان کی لغزشوں سے درگزر فرما، ان کی بے لوث خدمات کو شرفِ قبولیت عطا کر، اور انہیں فردوسِ بریں میں اعلیٰ مقام نصیب فرما۔ ان کے فکری و تعلیمی مشن کو دوام عطا فرما، اور اس امتِ زخم خوردہ کو ان جیسی بصیرت رکھنے والی قیادت سے سرفراز فرما۔ آمین۔
شکیل منصور القاسمی
بیگوسرائے
(منگل 23؍ رجب المرجب 1447ھ 13؍ جنوری2026ء)

Scroll to Top