آہ! مفتی یاد الہی میرٹھیؒ

انتہائی افسوس اور گہرے رنج و ملال کے ساتھ گزشتہ کل، روز ہفتہ ۲۵ اکتوبر ۲۰۲۵ء کو یہ خبر صاعقہ اثر سنی گئی کہ ہمارے عزیز رفیقِ درس، مولانا یاد الٰہی میرٹھی، نبیرۂ حضرت مولانا عاشق الہی صاحب میرٹھیؒ اس فانی دنیا کو الوداع کہہ گئے۔اِنّا لِلّٰه و اِنّا إليه راجعون۔
مرحوم نہایت مرنجاں مرنج، خوش گفتار، خوش رفتار اور باغ و بہار طبیعت کے مالک باکمال انسان تھے، ان کی مجلس میں بیٹھنے والا کبھی اداسی کے سائے میں نہ رہتا؛ وہ غموں کے بوجھ تلے دبے ہوئے دلوں کو اپنی منفرد شگفتہ مزاجی اور بے مثال ظرافت سے ہنسا دیتے اور زعفران زار بنا دیتے ، تھکے ہوئے اذہان کو تازگی و سرور بخش دیتے تھے۔
اگرچہ وہ علمی مباحث میں کم گفتار تھے، مگر “قیادت، تنظیم اور مجلسی آداب “ میں ایک مکمل نمونۂ جمال و کمال تھے۔ ان کی شخصیت میں ایک دلآویزی، ایک کشش، ایک لطافت اور ایک ایسی ہر دل ‌عزیزی تھی جو ہر ملنے والے کے دل کو اپنی محبت سے بھر دیتی تھی۔
ایامِ ہفتم و دورہ میں وہ ہمارے رفیقِ درس رہے، ان دنوں کی یاد آج بھی دل کے نہاں خانوں میں ایک خوشگوار چراغ کی مانند روشن ہے، پان کے ساتھ چائے نوش کرنے کا ان کا مخصوص انداز اور اس محفل کی دلکش فضا اب بھی نگاہِ خاطر میں تروتازہ ہے۔
شاید ہی کبھی اُنہیں کسی سے ذہنی یا دلی پرخاش رہی ہو۔ ان کی طبیعت میں وسعتِ قلب، کشادہ دستی ،نرم‌دلی اور بے تکلف ملنساری کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ وہ ہر ایک سے مسکرا کر ملتے، اور ملنے والوں کے دلوں میں اپنی محبت کے چراغ روشن کر دیتے۔
ان کے انتقال کی خبر نے دل و دماغ کو سخت مکدر کر دیا ہے، گویا ایک روشن گوشۂ زندگی بےنوری میں ڈوب گیا ہو۔
کیسے کیسے باکمال، خوش خُلق اور فیض ‌مند اہلِ دل اس دارِ فانی سے رُخصت ہو رہے ہیں ؟
چپکے چپکے رفتہ رفتہ دم بہ دم
وہ چہرے، جن سے مسکراہٹیں چھلکتی تھیں، وہ زبانیں، جن سے شیرینیِ گفتار ٹپکتی تھی،
وہ نگاہیں، جن میں محبت کے چراغ فروزاں تھے، سب پیوستِ خاک ہوگئے۔
ہائے رے دنیا!
تیری رعنائیاں وقہقہے فریبِ نظر کے سوا کچھ نہیں ، تیری مسرت وشادمانی بالآخر حسرت کی چادر اوڑھا جاتی ہے۔
اور ہائے رے پنجۂِ اجل! تو کتنا بے رحم وبے امان ہے؟
نہ عمر کا لحاظ، نہ کمال کا پاس، کیسے کیسے گلہاے رنگ رنگ کو تو مسل دیتا ہے :
اسی سے سکندر سا فاتح بھی ہارا
اللہ تعالیٰ رفیق مرحوم پر اپنی بےپایاں رحمتیں نازل فرمائے،اور ان کی قبر کو نور و راحت کا گہوارہ بنائے اور انہیں اعلیٰ علیّین میں بلند مقام عطا کرے۔آمین ثم آمین۔
شکیل منصور القاسمی
مركز البحوث الإسلامية العالمي
(اتوار 3؍ جمادی الاوّل 1447ھ 26 اکتوبر 2025ء)

Scroll to Top