بازار نمود میں اخلاص کی نیلامی

سوشلستان کے مادر پدر آزاد موجودہ عہدِ اظہار میں واقعی اقدار الٹ پلٹ ہو کر رہ گئے ہیں، یوں محسوس ہوتا ہے کہ للّٰہیت خلوت نشیں ہو گئی اور خبطِ اظہار و نمود نے باقاعدہ بازار سجا لیا ہے، سوشلستانی منظر نامے سے لگتا ہے کہ اب عمل کا دار و مدار “نیت” پر نہیں؛ تشہیر پر ہے، بذات خود عمل نہیں ؛ بلکہ اس کی نمائش معتبر ٹھہر گئی ہے، امتحانات میں کامیابی ہو یا ناکامی، ہر حال میں نقارۂ تشہیر سوشلستان میں یکساں بجنے لگتا ہے، ملازمتوں پہ تقرر ہو تو جشن تاجپوشی، اور سبکدوشی ہو تو عیدِ رخصت کا باقاعدہ اہتمام!
عبادتیں بھی دل کے محراب سے نکل کر اسکرین کے مصلّے پر
آبیٹھی ہیں؛ اب تو تہجد کی خاموش لائیو ہے، ذکر وتلاوت کی سرگوشی ریکارڈ شدہ، حتی کہ طواف بیت اللہ کی محویت بھی بہترین زاویوں میں قید! لگتا ہے خشوع کیمرہ کی تشہیر کو اپنا جانشیں بناکر رخصت پہ چلا گیا ہے، اب تو فلٹر کے بغیر بیچارا “خلوص” بھی نمایاں نہیں ہوتا!
مغرب میں حیا کب کے رخصت ہوچکی ، لگتا ہے اب مشرقی مایہ ( حیاء ) بھی چند گوشوں میں آخری سانسیں لے رہا ہے، اگر یہی روش برقرار رہی تو بعید نہیں کہ ازدواجی اور طبعی خلوتیں بھی منظرِ عام کی زینت بننے لگیں۔
ویوز کی کثرت اور خود نمائی کا نشہ نہ جانے اور کیا کیا گل کھلائے گا؟
بااثر علماء، قائدین، مصلحین اور مفکرین اگر اس باب میں فوری سنجیدہ غور و فکر نہ کریں تو بعید نہیں کہ حالات ناگفتہ بہ حد تک پہنچ جائیں:
اللهم أرنا الحق حقا وارزقنا اتباعه،وأرنا الباطل باطلا وفقتا لاجتنابه،ولا تجعله ملتبسا علينا فنضل واجعلنا للمتقين إماما؛آمين !۔

مركز البحوث الإسلامية العالمي
(جمعہ 14؍ شوال المکرم 1447ھ3؍اپریل 2026ء)

Scroll to Top