قرآت میں غلطی ہو ؛ لیکن معنی میں بنیادی تغیر نہ ہو تو نماز فاسد نہ ہوگی

سوال : السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
مفتی صاحب! ایک اہم مسئلے پر تشفی بخش جواب مطلوب ہے
سورہ حشر آیت نمبر 12 میں “ثم لایُنصَرون” کی جگہ اگر “ثم لاتُنصَرون” پڑھ دیا گیا تو کیا یہ معنی کا فساد تغیر فاحش کو مستلزم ہے اور کیا اس سے اعادہ صلاۃ لازم ہے؟
امید قوی ہے کہ تشفی بخش جواب مرحمت فرمائیں گے
جزاک اللہ خیرا
حذیفہ نوری ، کلکتہ

الجواب وباللہ التوفیق
یہ لحن جلی تو بیشک ہے
صیغہ جمع غائب کو صیغہ جمع حاضر سے تغییر کردیا گیا
یعنی تغییر حرف مكان حرف ہے
لیکن اس سے آیت کے بنیادی مفہوم میں تبدیلی نہیں ہوئی ہے
آیت پاک کا مرکزی مفہوم یہ ہے کہ منافقین کی طرف سے برے وقتوں میں مدد کا تحقق کسی طور نہیں ہوسکتا
صیغہ جمع حاضر پڑھ دینے سے بھی مدد کی ہی نفی ہوگی
البتہ نصرت کی نفی میں یہودیوں سے مسلمانوں کی طرف التفات ہوگا
لیکن یہ ایسا تغیر نہیں جو فاحش ہو یعنی معنی کو بالکل بدل دے
لہذا سہواً اس طرح پڑھنے سے نماز فاسد نہ ہوگی
محیط برہانی میں ہے
والثاني: أن يقدم كلمة على كلمة، ولا يغير المعنى بأن يقرأ لهم فيها شهيق وزفير أو يقرأ…… لا تفسد صلاته، وكذلك إذا قرأ إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فخافون ولا تخافوهم لا تفسد صلاته، وإن تغير المعنى تفسد صلاته (٥١ب١) .
في «مجموع النوازل» : إذا قرأ إذ الأعناق في أغلالهم لا تفسد صلاته؛ لأن المعنى لم يتغير لأن الأغلال إذا كانت في الأعناق كانت الأعناق في الأغلال أيضاً.( المحيط البرهاني لبرهان الدين ابن مازه ٣٢٩/١)

واللہ اعلم بالصواب
شکیل منصور القاسمی
(اتوار 18 رمضان المبارک 1447ھ 8/مارچ 2026ء)

Scroll to Top