قاضی القضاۃ حضرت امام ابو یوسف یعقوب بن ابراہیم رحمہ اللہ (متوفی 182هجری) صحابیِ رسول حضرت سعید حَبْتَةَ انصاری کے پڑپوتوں میں ہیں ، پورا نسب نامہ یوں ہے :
يَعْقُوب بْن إِبْرَاهِيم بْن حَبِيب بْنِ خُنَيْسِ بن سعد بن حَبْتَةَ الأَنْصَارِي وَسَعْدُ بْنُ حَبْتَةَ يُعْرَفُ بِأُمِّهِ فِي الأَنْصَارِ وَأُمُّهُ حَبْتَةُ بِنْتُ مَالِكٍ مِنْ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ وَهُوَ سَعْدُ بْنُ عَوْفِ بْنِ بَحِيرِ بْنِ مُعَاوِيَةَ بْنِ سُلْمَى بن بخيلة حَلِيفٌ لِبَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ الأَنْصَارِيِّ لَهُ صُحْبَة ( الانتقاء في فضائل الثلاثة الأئمة الفقهاء لابن عبد البر ص ١٧٢)
حضرت ہشام بن عروہ اور حضرت اعمش رحمہما اللہ جیسے امام المحدثین سے حدیث روایت کرتے اور خود بھی بہت بڑے محدث تھے ، حضرت امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے حلقہ بگوشِ فقہ ہوجانے کے بعد روایت حدیث کی بہ نسبت درایت اور اجتہاد واستنباط کا رنگ غالب آگیا ، اور امام ابو حنیفہؒ کے دست راست ، ممتاز شاگرد اور فقہ حنفی کے روشن ستارہ بنے ، بغداد میں قضاء کے منصب پر فائز ہوئے اور اپنے دور کے سب سے بااثر فقیہ اور محدث مانے گئے، آپ نے اپنے استاذ حضرت امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے اصول وقواعد کو ضبط تحریر میں لایا ، اپنے استاد کے اصول وفتاویٰ کو مرتب کیا اور انہیں پوری دنیا میں پھیلانے میں کلیدی کردار ادا کیا، ان کے علمی مقام کی اہمیت اس بات سے بھی ظاہر ہوتی ہے کہ کہا جاتا ہے: “اگر امام ابو یوسف نہ ہوتے تو امام ابو حنیفہ کا علم اس وسعت کے ساتھ اقطار عالم میں نہ پہنچتا”۔
تدوین وترتیبِ اصول وقواعد ، افتاء وقضاء میں اشتغال کے ساتھ آپ کی تالیفات میں “ الأمالي”، و”النوادر” نامی کتابوں کا تذکرہ بھی ملتا ہے ۔
امام العصر حضرت العلامہ انور شاہ کشمیری(دیکھئے فیض الباری ۲۶۱/۱)، شیخ ابو الوفاء افغانی (دیکھئے أصول السرخسي ( ٣/١)، ودیگر محققین کے مطابق اصول فقہ کے اولیں بانی ومدون بھی امام ابویوسف ہی ہیں ، حضرت امام شافعی رحمہ اللہ کی کتاب “الرسالہ “ کو اصول فقہ کی باضابطہ متداوَل ومؤَلف کتابوں میں اولیت واسبقیت کا اعزاز ضرور حاصل ہے ؛ لیکن وضع وتدوین میں نہیں!
وضع وتدوین اور ترتیب وتالیف میں فرق ملحوظ رکھنا ضروری ہے ( تفصیلات ناچیز کی عن قریب آنے والی کتاب اجتہاد وقیاس میں دیکھیں )
امام ابو یوسفؒ نے قضا و اجتہاد میں عدل و انصاف کو فروغ دیا، اور خلافت عباسیہ کے دور میں مہدی، ہادی اور ہارون الرشید کے مختلف ادوار میں قاضی القضاۃ رہے، آپ پہلی شخصیت ہیں جنہیں “ قاضی القضاۃ “ کا لقب ملا ، اسی طرح آپ پہلی شخصیت ہیں جنہوں نے اپنے عہد قضاء میں علماء ومفتیان کے لئے مخصوص وضع کا لباس متعارف کرایا۔
آپ نہ صرف حدیث کے ماہر تھے ؛ بلکہ فقہ، لغت اور دیگر علوم میں بھی بلند مرتبہ رکھتے تھے، آپ نے اپنے استاد کے اجتہادی اصول کو مضبوط ومستحکم بنیادوں پر استوار کیا، آپ کی تحریری کاوشوں، املا و تدوین اور مسائل فقہیہ کی علمی تاصیل وتاسیس میں بے مثل کاوشوں سے فقہِ حنفی عالمی سطح پر ایک مربوط، منظم اور معتبر فقہی مذہب کے طور پہ مشہور ہوئی، تقریباً ۲۹ سالوں تک آپ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی مجلس کے بلا ناغہ حاضر باش تھے ۔
مجھے یہاں قاضی ابویوسف کی سوانح حیات بتانا مقصود نہیں ہے ؛ بلکہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے انہیں جو ایک نہایت قیمتی نصیحت فرمائی تھی اسے آج اپنے طلبہ وعلماء کے لئے شئیر کرنا مقصود ہے کہ اس کے دامن میں علم وعمل اور عبر ونصائح کے ان گنت ان مول موتی پنہاں ہیں ۔
——————————-
روي أنّ أبا حنيفة أوصى إليه حين بلغ غاية العلم، فقال له: يا يعقوب، وقِّر السُّلطان، وعظِّم منزلته، وإياك والكذب بين يديه، والدخول عليه في كلِّ وقت، ما لم تدعك حاجة علمية، فإنك إذا أكثرت إليه الاختلاف تهاون بك وصغرت منزلتك عنده، فكن كما أنت في النَّار، تنتفع وتتباعد، ولا تدنُ منها، فإنّ السُّلطان لا يرى لأحد ما يرى لنفسه.
وإياك وكثرة الكلام بين يدي السُّلطان، فإنَّه يأخذ عليك ما قلته، ليرى من نفسه بين يدي حاشيته أنّه أعلم منك، وأنه يخطئك، وتصغر في أعين قومه ، ولكن إذا دخلت عليه تعرف قدرك وقدر غيرك، ولا تدخل عليه وعنده من أهل العلم من لا تعرفه، فإنك إن كنت أَدْوَن منه حالًا لعلك ترتفع عليه فيضرك، وإن كنت أعلم منه لعلك تنحط عنه، فتسقط بذلك من عين السُّلطان.
(وإذا عَرَض عليك شيء من أعماله فلا تقبل منه إلا بعد أن تعلم منه أنَّه يرضاك ويرضي مذهبك في العلم والقضاء، كي لا تحتاج إلى مذهب غيره في الحكومات، ولا تواصل أولياء السُّلطان وحاشيته، بل تقرب إليه فقط ، وتباعد عن حاشيته؛ ليكون مجدك وجاهك باقيًا.
ولا تتكلم بين يدي العامة إلا بما (تسأل عنه) ، وإياك والكلام في المسألة والتجارة إلا بما يرجع إلى العلم، كي لا يوقف على حبك ورغبتك في المال، فإنهم يسيئون الظن بك، ويعتقدون ميلك إلى أخذ الرشوة.
ولا تضحك ولا تبتسم بين يدي العامة، ولا تكثر الخروج إلى الأسواق، ولا تكلم المراهقين فإنهم فتنة، ولا تمش في قارعة الطريق مع المشايخ والعامة، فإنك إن قدمتهم ازدرى ذلك بعلمك، وإن أخرتهم ازدرى بك من حيث (إنه أسن منك) ؛ فإنَّ النبيَّ ﷺ قال: “من لم يرحم صغيرنا، ولم يوقر كبيرنا فليس منا” ( رواه الترمذي (١٩٢١).
(ولا تقعد على قوارع الطريق) ، واقعد في المساجد، ولا تأكل في الأسواق والمساجد، ولا تشرب من السقايات ولا من أيدي السقائين، (ولا تقعد على الحوانيت) ، ولا تلبس أنواع الديباج والحلي (والإبريسم، فإنّ ذلك يفضي إلى الرعونة) .
ولا تكثر الكلام (في بيتك) مع امرأتك في الفراش إلا بقدر الحاجة، (ولا تكثر مسها ولمسها) ، ولا تذكر الرجال الأجانب عندها.
واطلب العلم أولًا، ثم اطلب المال الحلال، فإنك إن طلبت المال في وقت التعلم عجزت عن طلب العلم، (ولا تقصد إكثار المال، فإنَّه يدعوك إلى شراء الجواري والغِلْمان) ، (وتشتغل بالدنيا والنساء) قبل تحصيل العلم، فإنَّه تضييع لوقتك( مقتبس من : كتائب أعلام الأخيار من فقهاء مذهب النعمان المختار لمحمود بن سليمان الكفوي ٣٨٨/١)
روایت ہے کہ امام اعظم امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے جب اپنے شاگردِ رشید امام ابو یوسف کو علم میں کمال تک پہنچتے دیکھا تو اُنہیں یہ نصیحتیں فرمائیں:
اے یعقوب! سلطان کی توقیر کرو اور اس کے مرتبے کو عظمت دو، اور اس کے سامنے جھوٹ بولنے سے بچو، بلا ضرورت ہر وقت اس کے دربار میں حاضر نہ ہوا کرو، الّا یہ کہ کوئی علمی ضرورت پیش آئے۔ اس لیے کہ اگر تم کثرت سے اس کے پاس جاؤ گے تو وہ تمہیں حقیر سمجھے گا اور تمہاری قدر و منزلت اس کی نگاہ میں گھٹ جائے گی، پس تمہارا حال آگ کے ساتھ رہنے والے کی طرح ہونا چاہیے کہ وہ اس سے فائدہ بھی اٹھاتا ہے اور اس سے فاصلے پر بھی رہتا ہے، اس کے قریب نہیں جاتا؛ کیونکہ سلطان اپنے لیے وہ کچھ جائز سمجھتا ہے جو دوسروں کے لیے نہیں سمجھتا۔
اور خبردار! سلطان کے سامنے زیادہ گفتگو نہ کرنا، کیونکہ وہ تمہاری باتوں کو پکڑ لے گا تاکہ اپنے حاشیہ نشینوں کے سامنے اپنی برتری ظاہر کرے، تمہیں غلط ٹھہرائے، اور تم اس کی نگاہ میں اور اس کے لوگوں کی نظر میں چھوٹے ہو جاؤ؛ بلکہ جب اس کے پاس جاؤ تو اپنے مقام کو بھی پہچانو اور دوسروں کے مرتبے کو بھی، اور اس کے پاس اس وقت نہ جاؤ جب وہاں ایسے اہلِ علم موجود ہوں جنہیں تم نہیں جانتے؛ اس لیے کہ اگر وہ تم سے کمتر ہوئے تو ممکن ہے تم ان پر فوقیت حاصل کر جاؤ جو تمہارے لیے نقصان دہ ہو، اور اگر وہ تم سے برتر ہوئے تو تم ان کے مقابلے میں کم تر دکھائی دو گے، یوں سلطان کی نظر سے گر جاؤ گے۔
اور اگر وہ تمہیں اپنے کسی منصب یا کام کی پیشکش کرے تو اسے اس وقت تک قبول نہ کرو جب تک تمہیں یقین نہ ہو جائے کہ وہ تم سے راضی ہے اور تمہارے علمی مسلک اور قضاء کے طریقے کو بھی پسند کرتا ہے، تاکہ تمہیں فیصلوں میں اپنے مسلک کے خلاف چلنے کی نوبت نہ آئے، اور سلطان کے کارندوں اور حاشیہ نشینوں سے میل جول نہ رکھو، بلکہ خود سلطان سے تعلق رکھو اور اس کے درباریوں سے فاصلہ اختیار کرو، تاکہ تمہاری عزت و وقار برقرار رہے۔
اور عوام کے سامنے وہی بات کرو جس کے بارے میں تم سے سوال کیا جائے، اور غیر ضروری گفتگو سے پرہیز کرو، خصوصاً ایسے معاملات میں جو تجارت یا دنیاوی منفعت سے متعلق ہوں، الّا یہ کہ وہ علمی پہلو رکھتی ہوں؛ ورنہ لوگ تمہاری نیت پر بدگمانی کریں گے اور تمہیں مال کی رغبت رکھنے والا سمجھیں گے، بلکہ رشوت کی طرف مائل بھی گمان کریں گے۔
اور عوام کے سامنے نہ زیادہ ہنسو اور نہ تبسم کی کثرت کرو، اور بازاروں میں کثرت سے آمد و رفت نہ رکھو، اور نو عمر لڑکوں سے بے تکلف گفتگو نہ کرو کہ وہ فتنہ کا سبب ہوتے ہیں، اور نہ ہی سڑکوں پر مشائخ اور عوام کے ساتھ چلتے پھرو؛ اس لیے کہ اگر تم انہیں آگے کرو گے تو تمہارے علم کی بے قدری ہوگی، اور اگر پیچھے رکھو گے تو وہ تمہیں حقیر سمجھیں گے اس بنا پر کہ وہ تم سے عمر میں بڑے ہیں؛ حالانکہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور ہمارے بڑوں کی تعظیم نہ کرے وہ ہم میں سے نہیں۔”
اور راستوں کے کناروں پر نہ بیٹھو، بلکہ مساجد میں بیٹھا کرو، بازاروں اور مساجد میں کھانا نہ کھاؤ، نہ سبیلوں سے پانی پیو اور نہ سقّاؤں کے ہاتھ سے، اور نہ دکانوں پر بیٹھو۔ ریشمی اور زینتی لباس (دیباج و ابریشم) اختیار نہ کرو، کیونکہ یہ بے وقاری اور سبک سری کا باعث بنتا ہے۔
اور اپنے گھر میں بھی بیوی کے ساتھ ضرورت سے زیادہ گفتگو نہ کرو، خصوصاً خلوت کے وقت، اور نہ ہی اس کے ساتھ حد سے زیادہ اختلاط اور لمس رکھو، اور نہ اس کے سامنے اجنبی مردوں کا ذکر کیا کرو۔
اور سب سے پہلے علم حاصل کرو، پھر حلال مال کی طلب میں لگو؛ اس لیے کہ اگر تم نے زمانۂ تعلم میں مال کمانے کی کوشش کی تو علم حاصل کرنے سے عاجز رہ جاؤ گے، اور مال کی کثرت کو مقصد نہ بناؤ، کیونکہ یہ تمہیں لونڈیوں اور غلاموں کے حصول کی طرف لے جائے گا اور تم دنیا اور عورتوں میں مشغول ہو جاؤ گے، اس سے پہلے کہ تم علم کو حاصل کر سکو،اور یہ تمہارے وقت کا ضیاع ہوگا)
———————-
موجودہ دور میں اس نصیحت کی اہمیت ونافعیت پہلے سے دو چند ہوجاتی ہے ، اس کا ہر ہر جزو ہم سب کے لئے چراغ راہ ہے ، طلبہ وعلماء تعلیمی سال کے آغاز کے موقع سے بالخصوص درج ذیل نصائح کو حرز جاں بنائیں :
سب سے پہلے علم حاصل کریں اور اپنی صلاحیتوں کو بڑھائیں، دنیاوی دولت اور شہرت کو ترجیح نہ دیں، اپنے مقام اور دوسروں کے مرتبے کا احترام کریں، خود کو فضول مقابلوں اور دکھاوے سے بچائیں۔ گفتگو، تعلقات اور اجتماعات میں محتاط رہیں، بلا ضرورت لوگوں یا اختیارات کے سامنے اپنی قدر کم نہ کریں، فضول رسم و رواج، فیشن اور دنیاوی مشغلے میں نہ الجھیں، اپنے کردار اور عمل کو پاکیزہ رکھیں، چھوٹوں پر رحم کریں، بڑوں کی تعظیم کریں، اور عوام کے سامنے برتاؤ میں اعتدال اختیار کریں۔والسلام
شکیل منصور القاسمی
مرکز البحوث الإسلامية العالمي (جمعرات 13؍ شوال المکرم 1447ھ2؍اپریل 2026ء)