ماہ وسال کی مبارک باد دینا نہ سنت ہے نہ بدعت۔ بلکہ جائز ومباح ہے ۔
عیدین ، شادی بیاہ کے موقعوں سے مبارکباد دینا بھی اسی قبیل سے ہے۔ احادیث واثار صحابہ سے اس کی تائید ہوتی ہے۔ائمہ متبوعین کے یہاں بھی مجموعی طور پہ جواز مصرح ہے۔ہاں ضروری نہ سمجھا جائے ۔ اور نئے سال منانے کا باضابطہ جشن نما اہتمام نہ کیا جائے ۔
مبارکباد دینے اور نیک خواہشات کے اظہار کی حد تک جواز میں کوئی کلام نہیں ۔
قَال ابْنُ حَجَرٍ الْعَسْقَلاَنِيُّ: إِنَّهَا (التهنئة بالاعوام والاشهر )مَشْرُوعَةٌ، وَاحْتَجَّ لَهُ بِأَنَّ الْبَيْهَقِيّ عَقَدَ لِذَلِكَ بَابًا فَقَال: بَابُ مَا رُوِيَ فِي قَوْل النَّاسِ بَعْضِهِمْ لِبَعْضٍ فِي يَوْمِ الْعِيدِ: تَقَبَّل اللَّهُ مِنَّا وَمِنْك، وَسَاقَ مَا ذَكَرَهُ مِنْ أَخْبَارٍ وَآثَارٍ ضَعِيفَةٍ لَكِنْ مَجْمُوعُهَا يُحْتَجُّ بِهِ فِي مِثْل ذَلِكَ، ثُمَّ قَال: وَيُحْتَجُّ لِعُمُومِ التَّهْنِئَةِ لِمَا يَحْدُثُ مِنْ نِعْمَةٍ أَوْ يَنْدَفِعُ مِنْ نِقْمَةٍ بِمَشْرُوعِيَّةِ سُجُودِ الشُّكْرِ وَالتَّعْزِيَةِ، وَبِمَا فِي الصَّحِيحَيْنِ عَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ فِي قِصَّةِ تَوْبَتِهِ لَمَّا تَخَلَّفَ عَنْ غَزْوَةِ تَبُوكٍ أَنَّهُ لَمَّا بُشِّرَ بِقَبُول تَوْبَتِهِ وَمَضَى إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ إِلَيْهِ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ فَهَنَّأَهُ. وَكَذَلِكَ نَقَل الْقَلْيُوبِيُّ عَنِ ابْنِ حَجَرٍ أَنَّ التَّهْنِئَةَ بِالأَْعْيَادِ وَالشُّهُورِ وَالأَْعْوَامِ مَنْدُوبَةٌ. قَال الْبَيْجُورِيُّ: وَهُوَ الْمُعْتَمَدُ ( نهاية المحتاج 2 / 391، ومغني المحتاج 1 / 316، وأسنى المطالب 1 / 283، والقليوبي وعميرة 1 / 310، وحاشية البيجوري 1 / 233. الموسوعة الفقهية)
والله أعلم بالصواب
شکیل منصور القاسمی
یکم محرم الحرام سنہ ١٤٣٩هجري