بائیں ہاتھ سے تسبیح پڑھنا؟
قرآن و حدیث میں ذکر وتسبیح کی بڑی فضیلت آئی ہے۔“ذکر اللہ ” کے لغوی مفہوم میں اگرچہ کافی عموم
قرآن و حدیث میں ذکر وتسبیح کی بڑی فضیلت آئی ہے۔“ذکر اللہ ” کے لغوی مفہوم میں اگرچہ کافی عموم
منطق نطق سے ہے ۔مصدر میمی یا ظرف کا صیغہ ہے ۔ نطق ظاہری بھی اورنطق باطنی بھی۔ نطق ظاہری
اسلام ایک مکمل دین اور مستقل تہذیب ہے ۔اس میں زندگی کے ہر مسئلہ کا حل موجود ہے ۔کسی بھی
اسلام کے تمام ہی احکام میں وحدت واجتماعیت کار فرماہے ۔اسلام نے انسان کی نیت ،قول ،عمل ، اخلاق ابدان
جسمانی محنت ومزدوری انسانی زندگی کا قیمتی سرمایہ اور متاع گراں مایہ ہے۔۔1886 عیسوی کے “مئی ڈے” سے ہزاروں سال
جن لوگوں پہ نماز واجب ہے ،اذان سن کر انہیں نماز کی تیاری میں لگ جانا یعنی اذان کا عملی
عمدا خلاف واقعہ چیز کسی سے بیان کرنے کو جھوٹ کہا جاتا ہے ۔لیکن مطلب براری کے لئےکسی بات کو
فتوی اسم مصدر ہے۔ جسکی جمع ” فتاوی” اور ” فتاوِی ” ہے۔افتاء یعنی کسی کو کوئی مسئلہ یا حکم
مالکیہ کے علاوہ تینوں فقہی مسالک کا اس پر اتفاق ہے کہ جمعہ کے بعد سنتیں متعین ہیں ۔۔اس سلسلہ