خود ساز وعہد ساز شخصیت – مولانا محمد صابر نظامی القاسمی
عظیم انسانوں سے بھری اس کائنات میں بعض نابغہ روزگار شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو در اصل ملی ضرورتوں کے […]
عظیم انسانوں سے بھری اس کائنات میں بعض نابغہ روزگار شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو در اصل ملی ضرورتوں کے […]
بِلاتخلُّف ہر سال آنے والے ماہ مبارک “رمضان کریم “ اور اس کے متعدد جمعہ کو زبردستی “الوداع “ کہہ
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَرِثُوا النِّسَاءَ كَرْهًا وَلَا تَعْضُلُوهُنَّ لِتَذْهَبُوا بِبَعْضِ مَا آتَيْتُمُوهُنَّ إِلَّا أَنْ يَأْتِينَ
آج پورے عالم اسلام ؛ خصوصاً پورے ملک میں شانِ رسالت مآب میں ہتک آمیز وگستاخانہ بیان کے باعث عجیب
اہلیت ، صلاحیت ، قابلیت اور لیاقت سے آنکھیں موند کر ، اپنوں ، چہیتوں ، رشتہ داروں اور اعزہ
حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
قرآن کریم کائنات کی عظیم ترین دولت اور نعمت ہے۔ زمین آسمان میں خدا کو سب سے محبوب چیز قرآن
جس طرح نبوت ورسالت کسبی نہیں کہ جو چاہے اپنی ریاضت ومحنت سے حاصل کرلے، ٹھیک اسی طرح اس کے
31 مئی 1866 بمطابق 15 محرم الحرام 1283 ہجری کو قصبہ دیوبند ضلع سہارنپور میں قائم ہونے والا چھوٹا سا