منطق کیوں پڑھاتے ہیں ؟شکیل منصور القاسمی
منطق نطق سے ہے ۔مصدر میمی یا ظرف کا صیغہ ہے ۔ نطق ظاہری بھی اورنطق باطنی بھی۔ نطق ظاہری
منطق نطق سے ہے ۔مصدر میمی یا ظرف کا صیغہ ہے ۔ نطق ظاہری بھی اورنطق باطنی بھی۔ نطق ظاہری
جسمانی محنت ومزدوری انسانی زندگی کا قیمتی سرمایہ اور متاع گراں مایہ ہے۔۔1886 عیسوی کے “مئی ڈے” سے ہزاروں سال
فتوی اسم مصدر ہے۔ جسکی جمع ” فتاوی” اور ” فتاوِی ” ہے۔افتاء یعنی کسی کو کوئی مسئلہ یا حکم
دور حیات آئے گا قاتل قضا کے بعدہے ابتداء ہماری تری انتہاء کے بعداقتدار ونشہ میں چور ، طائوس ورباب
خدارا ہمیں سفاک مسیحائوں سے بچائیں !جناب عالی ! تقریبا ڈیڑھ دہائی سے آپ بہار کی کرسی اقتدار پہ براجمان
آدم ثانی حضرت نوح علیہ السلام کے بڑے لڑکے (مشہور قول کے مطابق ) “سام ” کے نام پہ آباد
’’یہ شہادت گہہ الفت میں قدم رکھنا ہے‘‘’’لوگ آساں سمجھتے ہیں مسلماں ہونا‘‘قرآن کریم کہتا ہے :أَحَسِبَ النَّاسُ أَنْ يُتْرَكُوا
خدائے قادر مطلق کا پسندیدہ دین، مذہب اسلام ہے۔خدانے اس کی حفاظت اور ابدی بقاء وغلبہ کی ذمہ داری خود
وقت ‘ نظام کائنات کا ایک اہم حصہ ہے۔ لمحہ ،سیکنڈمنٹ،گھنٹہ ،شب وروز ،شام وسحر ،ہفتہ اور ماہ وسال “حیات