لائے ہیں دل کے داغ نمایاں کئے ہوئے
جس طرح نبوت ورسالت کسبی نہیں کہ جو چاہے اپنی ریاضت ومحنت سے حاصل کرلے، ٹھیک اسی طرح اس کے
جس طرح نبوت ورسالت کسبی نہیں کہ جو چاہے اپنی ریاضت ومحنت سے حاصل کرلے، ٹھیک اسی طرح اس کے
31 مئی 1866 بمطابق 15 محرم الحرام 1283 ہجری کو قصبہ دیوبند ضلع سہارنپور میں قائم ہونے والا چھوٹا سا
“موت “ کائنات کی اٹل حقیقت اور ناقابل تسخیر وشکست قوت ہے ، ہر آنے والے کو اپنے وقت موعود
نور و قمقموں سے منوّر اور روح افزا گلابوں سے معطر ، تنگ گلیوں اور کوچوں سے (عزیز گرامی مولوی
دین اسلام سب کا ہے اور سب کے لئے ہے، اسلامی تعلیمات ، انسانی زندگی کے تمام شعبوں کو بلا
قرآن وحدیث کو کسب معاش کا ذریعہ بنانا جائز نہیں۔کتاب وسنت میں اس پہ سخت وعید آئی ہے۔ جسکی وجہ
زمانہ عجب تماشاؤں سے پُر ہوگیا ہے، وہ دور کہاں گیا جب علمی رسوخ کو طرۂ امتیاز سمجھا جاتا تھا؟
اللہ تعالیٰ کی اس وسیع و عریض ومنظم ترین کائنات میں سارے انسان ایک ہی سانچے میں ڈھلے ہوئے نہیں
میرے یار، میرے ہمدم، مشفق و مکرم پیارے دوست محترم عالی مقام حضرت مولانا مفتی مجتبی حسن صاحب قاسمی کو