اجماعِ امت— حقیقت، حیثیت، فلسفہ، مراتب و تطبیقات

تبصرہ نگار : مفتی ناصر الدین صاحب مظاہری (استاذ جامعہ مظاہر علوم وقف سہارنپور ، یوپی)

یوں تو فقہ کے موضوع پر کتابیں ہر دور میں لکھی گئیں، اعلی سے اعلی کتابیں منصہ شہود پر جلوہ فگن ہوئیں، مدلل، مکمل اور مفصل کتابوں نے سینکڑوں کتابوں سے مستغنی کیا، بہت سی کتابیں قل و دل کا مصداق بھی ہوئیں، بعض کتابوں نے دھوم مچائی تو بعض نے کہرام مچادیا، بعض کے وجود سے چہروں پر مسکان نمودار ہوئی تو بعض کے آنے نے بہتوں کے چولہوں کے بند ہونے کی پیش گوئی کردی۔
فقہ حنفی کی شفافیت اور اس کی بنیادی مضبوطی یہی ہے کہ یہ اجماع کا صرف قائل ہی نہیں، جامع بھی ہے۔ یہاں مسالک غیر کے لیے نہ تشدد ہے نہ تشتت، نہ تعصب ہے نہ تفتن، یہ کوثر و تسنیم کی وہ سلسبیل اور چشمہ حیات ہے جہاں امن ہے، اطمینان ہے، سکون ہے، سکینت ہے۔ اسی لیے اس کے ماننے والوں کو قلبی اطمینان، ذہنی تصلب اور فکری تحفظ حاصل ہے۔

قرآن، حدیث، اجماع اور قیاس یہ چار دیواریں ہیں، انہی دیواروں پر فقہ حنفی کی عمارت قائم ہے۔

اجماع کے موضوع پر اگرچہ دو چار کتابیں پہلے سے موجود ہیں، لیکن وہ عموما اجماع کے کسی ایک پہلو یا ایک خاص ہدف پر مرتب ہوئی ہیں، جب کہ پیش نظر کتاب حقیقت کے گرد بھی گھومتی ہے، مضبوط حیثیت کی حامل بھی ہے، عظیم فلسفہ پر مشتمل بھی ہے اور فرق مراتب و تطبیقات کو بھی اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے۔ اردو زبان میں اس موضوع پر یہ ایک ایسی جامع کتاب بن کر سامنے آئی ہے جس میں اجماع کے تقریباً تمام اہم گوشوں کو یکجا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

اس کے مرتب و مصنف محترم مولانا مفتی شکیل منصور قاسمی صاحب فقہی مزاج کے حامل متصلب انسان ہیں۔ ان کی تعلیم فقہ حنفی کے دونوں معتبر اداروں مظاہر علوم اور دارالعلوم میں ہوئی، فتوی نویسی اور تمرین افتا کے سنہرے دور سے گزرے، کتب فقہ کا تقابلی مطالعہ خوب کیا، ان کا حاصل مطالعہ خوب تر ہے، یادداشت لائق رشک ہے اور تحریر میں فقہی ذوق نمایاں ہے۔ ان کی تحریرات فقہی ہوتی ہیں، فقہ ان کا گھر ہے اور وہ خود فقہ کے اس گھر کے مکین ہیں۔

بات جب اجماع کی ہو تو یہ محض ایک فقہی اصطلاح نہیں رہتی، بلکہ شریعت کے ایک ایسے مضبوط ستون کی حیثیت اختیار کرلیتی ہے جس پر امت کی علمی عمارت کا ایک بڑا حصہ قائم ہے۔ اجماع کا مطلب یہ نہیں کہ چند افراد کسی رائے پر جمع ہوگئے یا کسی مسئلے میں اکثریت کی رائے غالب آگئی؛ بلکہ شریعت کی اصطلاح میں اس کے اپنے شرائط، مراتب، حدود اور حجیت ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں سے اس کتاب کی ضرورت اور افادیت کا احساس ہوتا ہے۔

مصنف نے اجماع کی حقیقت اور تعریف سے گفتگو شروع کرکے اس کی شرعی حیثیت، حجیت، فلسفہ، مراتب، اقسام اور تطبیقات تک بات پہنچائی ہے۔ اجماع اور اجتہاد کا باہمی تعلق، نقل اجماع کی حیثیت، دعوائے اجماع کے مسائل اور مختلف فقہی مکاتب فکر میں اجماع کے مقام جیسے اہم مباحث بھی کتاب میں زیر بحث آئے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ مصنف نے صرف کتاب نہیں لکھی بلکہ اپنے طویل فقہی مطالعے کو ایک موضوع کے گرد جمع کردیا ہے۔
قرآن و حدیث سے اجماع کی حجیت پر استدلال بھی کتاب کی اہم خصوصیات میں سے ہے۔ قرآن کریم کی آیات اور احادیث نبویہ کے ساتھ ائمہ فقہ و اصول کے اقوال اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ امت کا اجماع محض اتفاق رائے نہیں بلکہ شرعی حجت ہے۔ امام سرخسی کا یہ جملہ ’’إجماع الأمة موجب للعلم قطعا‘‘ اپنے اندر پوری بحث کا خلاصہ رکھتا ہے کہ امت کا اجماع قطعی علم کا موجب ہے۔
کتاب کی خوبی یہ بھی ہے کہ مصنف نے اجماع کو صرف اصولی کتابوں کے خشک مباحث تک محدود نہیں رکھا بلکہ فقہی تطبیقات سے اس کا رشتہ جوڑا ہے۔ اس سے قاری کو معلوم ہوتا ہے کہ اجماع کوئی ایسا علمی عنوان نہیں جو صفحات میں قید ہوکر رہ گیا ہو، بلکہ فقہ اسلامی کے عملی وجود میں اس کے اثرات دور تک پھیلے ہوئے ہیں۔

مولانا مفتی شکیل منصور قاسمی
کا اسلوب علمی ہونے کے باوجود خشک نہیں، تحقیق کے باوجود ثقیل نہیں اور فقہی ہونے کے باوجود بے لطف نہیں۔ جہاں ضرورت ہوتی ہے وہاں دلائل سامنے آتے ہیں، جہاں بحث کا تقاضا ہوتا ہے وہاں تفصیل ملتی ہے اور جہاں قاری کو الجھن کا اندیشہ ہوتا ہے وہاں وضاحت کا اہتمام کیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کتاب اہل علم کے لیے تحقیقی سرمایہ اور طلبہ کے لیے مفید رہنما بن سکتی ہے۔
میرے نزدیک ’’اجماع امت‘‘ کی اصل خوبی اس کی جامعیت ہے۔ یہ کتاب اجماع کو صرف ’’ماننے‘‘ کی دعوت نہیں دیتی بلکہ اسے ’’سمجھنے‘‘ کا سلیقہ بھی عطا کرتی ہے۔ آج جب علمی اصطلاحات کو سیاق و سباق سے کاٹ کر پیش کرنے کا چلن عام ہے، اجماع جیسے بنیادی اصول کو دلائل، تاریخ، اصول اور فقہی تطبیقات کی روشنی میں سمجھنے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔

یہ کتاب مفتی صاحب کے وسیع فقہی مطالعے، مضبوط حافظے، تحقیقی ذوق اور فقہی بصیرت کا آئینہ ہے۔ اسے پڑھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ مصنف نے اجماع پر قلم نہیں اٹھایا بلکہ اپنے فقہی گھر کے ایک مضبوط ستون کی پیمائش کی ہے، اس کی بنیاد دیکھی ہے، اس کی بلندی ناپی ہے، اس کے سائے کو محسوس کیا ہے اور پھر اسے ہمارے سامنے رکھ دیا ہے۔

مختصر یہ کہ ’’اجماع امت: حقیقت، حیثیت، فلسفہ، مراتب و تطبیقات‘‘ اردو کے فقہی ذخیرے میں ایک وقیع اور قابل قدر اضافہ ہے۔ جو شخص اجماع کو محض ایک اصطلاح نہیں بلکہ شریعت کے ایک زندہ، مضبوط اور مؤثر اصول کی حیثیت سے سمجھنا چاہتا ہے، اس کے لیے یہ کتاب قابل مطالعہ ہے۔

اخیر میں بس اتنا ضرور کہوں گا کہ اچھی کتاب وہ نہیں جو الماری کی زینت بن جائے، اچھی کتاب وہ ہے جو ذہن میں سوال پیدا کرے، فکر کو سمت دے اور مطالعہ ختم ہونے کے بعد بھی دیر تک آدمی کے ساتھ چلتی رہے۔ ’’اجماع امت‘‘ بھی اسی قبیل کی کتاب ہے۔

مفتی صاحب کی ایک اور فقہی کتاب ’’اجتہاد اور قیاس‘‘ بھی ان شاء اللہ چند ہی دنوں میں منظر عام پر آنے والی ہے اور اس کی دھوم ابھی سے اہل علم کے حلقوں میں سنائی دینے لگی ہے۔ یہ بھی ان کے اسی فقہی سفر کی ایک اور اہم منزل ہوگی اور امید ہے کہ اہل علم کے حلقے اسے بھی اسی ذوق و شوق سے قبول کریں گے جس ذوق و شوق سے ان کی سابقہ علمی کاوشوں کو دیکھا گیا ہے۔

خدا مفتی صاحب کے قلم حقیقت رقم کو یوں ہی جاری و ساری رکھے، فقہ حنفی کی ترجمانی اور حق و حقانیت کی چوبداری کے لیے ان کی خدمات کو شرف قبول بخشے اور ان کے علم و قلم میں برکت عطا فرمائے۔

ناصرالدین مظاہری
مظاہرعلوم وقف سہارنپور
(چوبیس ربیع الاول چودہ سو اڑتالیس ہجری)

Scroll to Top