محمد شاہد ناصری حنفی
ایڈیٹر، ماہنامہ مکہ میگزین، ممبئی
بعض اہلِ علم کا تعارف کسی ایک کتاب سے نہیں ہوتا؛ ان کے قلم سے نکلنے والی مختلف تحریریں رفتہ رفتہ ان کی شخصیت کے علمی نقوش ابھارتی چلی جاتی ہیں۔ چند سطریں پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ پسِ پردہ ایک وسیع مطالعہ ہے، اور چند مضامین سے محسوس ہوتا ہے کہ صاحبِ قلم محض صاحبِ معلومات نہیں، صاحبِ نظر بھی ہیں۔ مولانا مفتی شکیل منصور القاسمی زید علمہ سے میرا تعارف بھی کچھ اسی نوعیت کا ہے۔
سوشل میڈیا پر ان کی متعدد تحریریں پڑھنے کا موقع ملا۔ مختصر تحریروں میں بھی علمیت، عربیت، وسعتِ مطالعہ اور جامعیتِ نظر کی جو آمیزش محسوس ہوتی ہے، وہ خاص طور پر متوجہ کرتی ہے۔ ان کے ہاں علمی نکتہ محض نقل نہیں ہوتا، اس کے پس منظر اور محل پر بھی نگاہ رہتی ہے؛ زبان صرف اظہار کا وسیلہ نہیں رہتی، بلکہ فکر کی ترجمان بن جاتی ہے۔ یہی وصف ان کے اسلوب کو وقار اور متانت عطا کرتا ہے۔
یہ خوش گوار اتفاق ہے کہ ان کی بہت سی تحریریں پڑھنے کے باوجود اب تک ان کی کوئی باقاعدہ تصنیف میری نظر سے نہیں گزری۔ اس لیے اجتہاد و قیاس جیسے دقیق اور بنیادی موضوع پر زیرِ نظر وقیع کتاب کے بارے میں یہ چند کلمات کتاب کے مطالعے کے بعد کا تبصرہ نہیں، بلکہ مصنف کے علمی مزاج سے پیدا ہونے والے حسنِ ظن اور نیک توقع کا اظہار ہیں۔ فی الحال کتاب کا عنوان اور اس کی اشاعت کی اطلاع ہی سامنے آئی ہے؛ اس لیے اس کے مندرجات اور نتائج پر کوئی حتمی رائے قائم کرنا قبل از وقت ہوگا۔
تاہم موضوع کا انتخاب بجائے خود صاحبِ تصنیف کے علمی ذوق کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اجتہاد و قیاس کے مباحث میں محض معلومات کافی نہیں؛ وسیع مطالعہ، اصولی بصیرت، دقتِ نظر اور علمی احتیاط بھی درکار ہوتی ہے۔ ان کی سابقہ تحریروں میں جو تحقیق پسندی اور جامعیت محسوس ہوئی ہے، اس کی بنا پر امید ہے کہ یہ کتاب بھی موضوع کے مختلف گوشوں کو سمیٹنے اور اسے اس کی علمی گہرائی کے ساتھ پیش کرنے کی ایک قابلِ قدر کوشش ہوگی۔ یہ کتاب کے بارے میں پیشگی فیصلہ نہیں، مصنف کے علمی مزاج سے وابستہ ایک خوش گمانی ہے۔
ان کے قلمِ گہر بار سے اس سے قبل بھی متعدد تصانیف منظرِ عام پر آچکی ہیں۔ سیرتِ رسول اکرم ﷺ پر ان کی تصنیف ’’کتابِ جاناں‘‘ اسی سلسلے کی ایک خوش رنگ کڑی ہے۔ سیرتِ طیبہ علم کے ساتھ محبت، تحقیق کے ساتھ ادب اور روایت کے ساتھ حسنِ بیان کا تقاضا کرتی ہے؛ اور یہی امتزاج کسی تصنیف کو محض واقعات کے مجموعے سے اٹھا کر محبتِ رسول ﷺ کی خوشبو سے معمور تحریر بنا دیتا ہے۔
مفتی شکیل منصور القاسمی صاحب کی تحریروں میں ایک نمایاں وصف علم کو سمیٹنے اور اسے حسنِ بیان کے ساتھ پیش کرنے کا قرینہ ہے۔ عربی مصادر سے شناسائی، فقہی و اصولی مباحث سے انس، مختلف جہات پر نگاہ اور اختصار میں جامعیت—یہ اوصاف ان کے آئندہ علمی سفر سے اچھی توقعات وابستہ کرنے کے لیے کافی ہیں۔
’’اجتہاد و قیاس‘‘ کے موضوع پر اس وقیع تصنیف کی آمد پر مفتی صاحب کو دلی مبارک باد پیش ہے۔ دعا ہے کہ یہ کتاب ان کے سفرِ علم میں ایک روشن سنگِ میل بنے، اہلِ علم کے لیے نافع اور طلبہ کے لیے مفید ثابت ہو، اور اللہ تعالیٰ ان کے فہم و فراست اور ذوقِ تحقیق میں مزید برکت فرمائے۔ ان کی مساعی شرفِ قبول پائیں، سلسلۂ تصنیف و تحقیق اسی آب و تاب سے جاری رہے، اور ان کا قلم آنے والے زمانوں تک علم و فکر کی راہیں روشن کرتا رہے۔ آمین۔